شہدا کے خون کا بدلہ آل خلیفہ حکومت سے لے کر رہیں گے، بحرینی عوام کا اعلان
بحرینی عوام نے علما کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کر کے اعلان کیا ہے کہ وہ آل خلیفہ حکومت سے اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ لے کر رہیں گے۔
بحرینی عوام نے ملک کے مختلف علاقوں منجملہ کرانہ اور بوری میں مظاہرے کر کے اپنے شہیدوں کے خون کا بدلہ آل خلیفہ حکومت سے لینے کے عزم کا اعلان کیا ہے-
مظاہرین کا کہنا تھا کہ آل خلیفہ حکومت نے ان کے نوجوانوں کا خون علاقے کی بعض حکومتوں اور امریکا کی مشترکہ سازش کے تحت اور عالمی برادری کی خاموشی کی آڑ میں بہایا ہے اور ہم ان شہیدوں کے خون کا بدلہ لے کر رہیں گے-
مظاہرے کے شرکا نے الدراز کے محصور علاقے کے باشندوں اور اپنے محبوب قائد آیت اللہ شیخ عیسی قاسم سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے راستے کو جاری رکھنے کا عہد کیا-
اس درمیان الدراز علاقے کے باشندوں نے ان شہدا کے علامتی تابوت اٹھا کر جنھیں گذشتہ منگل کو آل خلیفہ حکومت کے کارندوں نے شہید کیا، ایک جلوس نکالا-
آل خلیفہ حکومت نے ان شہدا کی آخری رسومات میں ان کے گھر والوں کو بھی شریک ہونے کی اجازت نہیں دی اور خفیہ طریقے سے ان کے جنازوں کو دفن کر دیا-
شہدا کے اہل خانہ نے آل خلیفہ حکومت کے اس فیصلے کو بھی انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا کے جنازوں میں گھر والوں کو بھی شرکت کی اجازت نہ دینا آل خلیفہ کی مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے-
اطلاعات ہیں کہ بحرین کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے مظاہرے کئے گئے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے- مظاہرین اپنے ہاتھوں میں بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی تصویریں اٹھا کر ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کر رہے تھے-
بحرین کی ایک سیاسی جماعت وعد پارٹی نے بھی اپنے بیان میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الدراز کا فوجی محاصرہ ختم کر دے اور آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر کے باہر تعینات فوجیوں کو واپس بلا لے-
وعد پارٹی نے آل خلیفہ حکومت پر زور دیا کہ وہ الدراز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے اور جن شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں فوری طر پر رہا کرے۔
وعد پارٹی نے شاہی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گذشتہ منگل کے روز فوج کے حملے اور اس میں متعدد شہریوں کی شہادت کے واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے-
آل خلیفہ حکومت کے فوجیوں نے امریکا اور سعودی عرب کی ایما پر گذشتہ منگل کو الدراز میں بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کے گھر اور گھر کے باہر دھرنے پر بیٹھے ان کے حامیوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں چھے بحرینی شہری شہید اور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے جبکہ تقریبا تین سو شہریوں کو گرفتار کر لیا تھا-
بحرینی حکومت نے الدراز کے علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے اور وہاں کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو یہ خبر ہے کہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کہاں اور کس حال میں ہیں-