قطر نے دہشت گردی کی سعودی فہرست کو مسترد کردیا
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i286012-قطر_نے_دہشت_گردی_کی_سعودی_فہرست_کو_مسترد_کردیا
قطر کی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے دہشت گردی سے متعلق جاری کی گئی فہرست کو مسترد کردیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۱:۵۵ Asia/Tehran
  • قطر نے دہشت گردی کی سعودی فہرست کو مسترد کردیا

قطر کی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے دہشت گردی سے متعلق جاری کی گئی فہرست کو مسترد کردیا ہے۔

قطر کی حکومت نے ایک سرکاری بیان میں سعودی عرب، مصر، بحرین اورمتحدہ عرب امارات کے ذریعے جاری کی گئی دہشت گردی کی فہرست کو بے بنیاد قراردیا اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قطر کی جانب سے اصولوں کی پابندی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر سے کہیں زیادہ ہے۔
قطر کے ایک سینیئر عہدیدار نے بھی اعلان کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں امیر قطرکا امریکا کا دورہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرامپ نے قطر کے امیر سے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بارے میں بات چیت کے لئے واشنگٹن کا دورہ کریں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے جمعے کی صبح ایک بیان جاری کرکے قطر کے بارہ اداروں اور کمپنیوں اور انسٹھ افراد منمجلہ اٹھارہ قطری شہریوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
اس مشترکہ بیان میں عرب ملکوں میں انسٹھ افراد اور بارہ اداروں اور کمپنیوں پر قطر سے وابستگی اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت جیسے بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
ان چاروں عرب ملکوں نے اپنے مشترکہ بیان میں بحرین کے چھے گروہوں اور تنظیموں سرایا اشتر، سرایا مقاومت، سرایا مختار، چودہ فروری نامی انقلابی اتحاد، تحریک احرار اور بحرین کی ہی تنظیم حزب اللہ کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا ہے اور ان پر الزام لگایا ہے کہ یہ گروہ اور تنظیمیں بحرین میں آل خلیفہ حکومت کو گرانا چاہتی ہیں۔
قطر سے ناطہ توڑنے والے ان ملکوں کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایک طرف تو قطر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعوی کرتا ہے اور دوسری طرف اس نے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رکھی ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے۔
اس درمیان قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ قطر کو اس کی ترقی و پیشرفت کی بناپر بعض ملکوں کی طرف سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
قطر کے وزیرخارجہ نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ بعض ملکوں کے ذریعے قطر سے تعلقات منقطع کرلئے جانے کے بعد قطری شہریوں کی زندگی ہرگز متاثر نہیں ہوگی اور قطر اپنی خارجہ پالیسی میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لےگا۔