یمنی فوج کی جوابی کارروائی میں سعودی فوجیوں کا بھاری نقصان
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i286356-یمنی_فوج_کی_جوابی_کارروائی_میں_سعودی_فوجیوں_کا_بھاری_نقصان
یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے مختلف یمنی اور سعودی صوبوں منجملہ تعز، مآرب، صنعا نجران اور عسیر میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۷ Asia/Tehran
  • یمنی فوج کی جوابی کارروائی میں سعودی فوجیوں کا بھاری نقصان

یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے مختلف یمنی اور سعودی صوبوں منجملہ تعز، مآرب، صنعا نجران اور عسیر میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے نجران کے سرحدی علاقے میں واقع الفواز کے مغرب میں اور اسی طرح النہیقہ اور السدیس میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی۔یمنی فوجیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں الضبعہ اور الطلعہ نیز المخلوق میں بھی سعودی فوجیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔یمنی فوج کے ایک باخبر ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے العسیر میں علب اور الشیبانی کی پہاڑیوں پر سعودی فوجیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا اور انھیں خاصا نقصان پہنچایاگیا۔ادھر یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے یمنی صوبے تعز کے جنوب میں صلو کے علاقے کو آزاد کرا لیا۔ یمنی فوج نے المخا کے علاقے پر سعودی اتحاد کے حملے کو ناکام بنا دیا جس کے نتیجے میں سعودی اتحاد کے متعدد فوجی ہلاک ہو گئے۔ شمالی یمن کے صوبے الجوف میں بھی یمنی فوجیوں نے خب اور الشعف کے علاقوں میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔دارالحکومت صنعا کے شمال مشرق میں واقع علاقے نہم میں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے برّان اور المدفون کے علاقوں میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کی پیش قدمی روکتے ہوئے سعودی اتحاد کے کئی فوجیوں کو ہلاک اور ان کی پانچ گاڑیوں کو تباہ کر دیا۔دریں اثنا یمن کی وزارت صحت کے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں یمن میں ہیضے کی پھیلتی ہوئی بیماری کا مقابلہ کرنے میں اپنی کسی بھی قسم کی ذمہ داری پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔ یمن کی وزارت صحت کے اعلی عہدیدار ناصر العرجلی نے پیر کے روز صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ یمن پر سعودی جارحیت، طبی مراکز پر حملوں ، اور محاصرے کے نتیجے میں دواؤں، ایندھن اور مالی ذرائع کی قلّت، نیز بجلی کی سپلائی منقطع ہونے کی بنا پر یمنی عوام کو شدید بحران کا سامنا ہے اور ان تمام مسائل کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی یمن کے عام شہریوں کی اموات میں اضافے کا باعث بنی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے مارچ دو ہزار پندرہ سے امریکہ کی حمایت سے یمن کو اپنی وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کے نتیجے میں بارہ ہزار سے زائد عام شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ دسیوں ہزار زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔