حکومت کے خلاف بحرینی عوام کا احتجاج
بحرین کے عوام نے ایک بار پھر ملک کے سرکردہ عالم دین آیت اللہ عیسی قاسم کے گھر کے فوجی محاصرے کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
سیکڑوں کی تعداد میں بحرینی شہریوں نے شبانہ مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دارالحکومت منامہ کے مغربی علاقوں کی سڑکوں پر مارچ کیا اور شاہی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف نعرے لگائے۔
جزیزہ سترہ، سماہیج، اور المقشع میں ہونے والے مظاہروں میں شریک لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں سرکردہ عالم دین آیت اللہ عیسی قاسم کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ الدراز میں واقع ان کے گھر کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مظاہرین، ملک میں جاری آمریت مخالف تحریک کے دوران شہید ہونے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان اور جمہوری حقوق کے حصول تک تحریک جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کر رہے تھے۔
کہا جارہا ہے کہ بحرین کی شاہی حکومت نے کرائے کے فوجیوں کی مدد سے جزیرہ سترہ میں ہونے والے مظاہرے میں شریک لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد پرامن مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔جمعے کے روز بھی بحرین کے مختلف شہروں میں آیت اللہ شیخ عیسی قاسم اور شاہی حکومت کی جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی حمایت میں مظاہرے کیے گئے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ بحرین کی ،جو، جیل میں بند سیاسی قیدیوں نے بھی شاہی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے اور عوام سے اپنی حمایت جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔جو، جیل میں بند قیدیوں کی جانب سے موصول ہونے والے مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ شاہی حکومت کے سیکورٹی اہلکار، اعترافی بیان لینے کے لیے انہیں بے پناہ تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
قیدیوں کے مراسلوں میں نشاندہی کی گئی ہے کہ تقریبا چار ہزار سیاسی قیدی، جو، جیل میں بند ہیں اور انہیں بنیادی ترین سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ بحرین میں فروری دو ہزار گیارہ سے جمہوری تحریک اور مظاہرے جاری ہیں اور اس ملک کے عوام، سعودی عرب کی حمایت یافتہ خاندانی بادشاہت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بحرین کی شاہی حکومت، عوام کے جائز جمہوری مطالبات پورے کرنے کے بجائے، سعودی عرب اور دیگر ملکوں کے کرائے کے فوجیوں کے ذریعے اس تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں بحرینی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
ہزاروں افراد کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جن میں علمائے کرام، سیاسی رہنما اور انسانی حقوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض افراد کو بے بنیاد الزامات کے تحت طویل المدت قید،جرمانے اور ملک بدری کی سزائیں سنائے کے علاوہ ان کی شہریت بھی منسوخ کی جا رہی ہے۔بحرین کی شاہی حکومت، اسرائیل کی طرز پر ملک میں آبادی کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کے لیے غیر ملکیوں کو لا بسانے اور انہیں بحرین کی شہریت دینے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے۔