عراق پر امریکی جارحیت کے پندرہ سال مکمل
عالم اسلام کا ایک اہم ملک عراق لوٹ لیا گیا، نابود کردیا گیا اور یہاں کا خزانہ خالی کردیا گیا۔ حتیٰ عراق کے نیشنل میوزیم میں موجود نادر آثار قدیمہ اور دیگر اشیا کو بھی لوٹ لیا گیا اور انہیں مغربی ممالک کے ہاتھوں کوڑیوں کے مول بیچ دیا گیا۔
ایک لمبے عرصے تک عراق کو دھمکیاں دینے اور اسے کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے سلسلے میں مورد الزام ٹھہرا کر بالآخر بیس مارچ ۲۰۰۳ کو امریکہ نے ایٹمی ہتھیار کا بہانہ بنا کر عراق کی مظلوم عوام پر حملہ کردیا۔

اس حملے میں امریکی جارح فوجوں کے ساتھ استعمار پیر برطانیہ کی فوجیں بھی شامل تھیں جنہوں نے عراقی نہتے عوام پر ہزاروں کروز میزائیل، بم اور گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں ہزاروں نہتے عراقی شہری جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بی شامل تھے شہید ہوگئے۔

جارح فوجیوں نے نہ گھر چھوڑا نہ اسکول چھوڑے، انہوں نے مسجدیں، عبادتگاہیں، ثقافتی مراکز، سمیت عراق کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کردیا۔ اسپتال باقی نہ بچے، رہائشی مکانات منہدم ہوگئے اور ہر طرف ویرانی چھا گئی۔

انہوں نے نہ صرف معمولی اسلحہ استعمال کیا بلکہ جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کئے جس کے نتیجے میں مارے جانے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

عراقی فوجیں ان حملوں کی تاب نہ لاسکیں اور عراقی ڈکٹیٹر صدام نے امریکی فوج سے معاہدہ کر لیا جس کے نتیجے میں عراقی فوج نے سرنڈر کردیا۔

امریکہ نے عراق پر قبضہ کرنے اور صدام کی سرنگونی کے بعد سب سے پہلے عراقی تیل چرانا شروع کیا اور اس کے لئے عراق میں اپنے خاص افراد بٹھائے جنہوں نے امریکی کمپنیوں سے معاہدے کئے۔

عالم اسلام کا ایک اہم ملک عراق لوٹ لیا گیا، نابود کردیا گیا اور یہاں کا خزانہ خالی کردیا گیا۔ حتیٰ عراق کے نیشنل میوزیم میں موجود نادر آثار قدیمہ اور دیگر اشیا کو بھی لوٹ لیا گیا اور انہیں مغربی ممالک کے ہاتھوں کوڑیوں کے مول بیچ دیا گیا۔
