یمن میں شادی کی تقریب پر سعودی حملے کی شدید مذمت
آزاد ڈاکٹروں کی تنظیم نے مغربی یمن کے صوبے حجہ میں شادی کی ایک تقریب پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ اقدام قرار دیا ہے۔
آزاد ڈاکٹروں کی تنظیم نے عام شہریوں پر حملے کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ شادی کی اس تقریب میں نہ تو کوئی شخص مسلح تھا اور اور نہ ہی کسی کے بدن پر کوئی فوجی وردی تھی مگر ان کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔
آزاد ڈاکٹروں کی تنظیم نے اس حملے میں زخمی ہونے والوں میں سے تیرہ چھوٹے بچوں کے علاج و معالجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یمن میں تمام متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔
یمن کے صوبہ حجہ میں بنی قیس کے علاقے الراقہ میں شادی کی ایک تقریب پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے میں درجنوں افراد شہید و زخمی ہو گئے تھے۔ شہید و زخمی ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
سعودی جنگی طیاروں نے الراقہ کے آس پاس کے علاقوں پر بھی حملہ کر کے امدادی کارکنوں کو وہاں جانے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کئے جانے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔دوسری جانب سعودی عرب کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے جیزان میں دو سعودی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے جیزان کے علاقے الخوبہ میں سعودی عرب کی ایک فوجی گاڑی کو بھی تباہ کر دیا۔ اس حملے میں بھی کئی سعودی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔جیزان میں ہی جبل سلا، السمنہ اور المستحدث کے علاقوں کو بھی یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے نشانہ بنایا اور سعودی فوج کو خاصا نقصان پہنچایا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، امریکہ کی حمایت سے علاقے کے غریب اسلامی عرب ملک یمن کو مارچ دو ہزار پندرہ سے وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنائے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں تیس ہزار سے زائد عام شہری شہید و زخمی اور لاکھوں دیگر بے گھر ہو چکے ہیں اور اس ملک کی بنیادی تنصیبات بھی تباہ ہو چکی ہیں جبکہ محاصرے کی بنا پر اس ملک میں پینے کے صاف پانی اور دواؤں کی شدید قلت کے نتیجے میں مختلف قسم کی وبائی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔