سعودی اتحاد سے ملائیشیا کی علیحدگی کا خیر مقدم
یمن نے جارح سعودی اتحاد سے ملائیشیا کی علیحدگی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کوالا لامپور کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیر دفاع محمد سبو نے جمعرات کے روز کوالا لامپور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ اپنا تعاون ختم کر رہا ہے۔
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے چیئر مین محمد علی الحوثی نے جارح سعودی اتحاد سے ملائیشیا کی علیحدگی کے فیصلے کو اس ملک کی نئی حکومت کے درخشاں موقف سے تعیبر کیا ہے۔
حکومت ملائیشیا نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ چند روز کے اندر اندر یمن کے خلاف قائم سعودی - اماراتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لے گی۔
المسیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے ملائیشیا کی حکومت کے فیصلے پر سعودی اور اماراتی حکام کے غم و غصے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں جارح ملکوں کو سیاسی اور فوجی، دونوں لحاظ سے دھچکہ لگا ہے اور اس اتحاد کی قانونی اور اخلاقی حثیت مزید کمزور ہو گئی ہے۔
ملائیشیا کے وزیر دفاع محمد سبو نے جعمرات کے روز کوالا لامپور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ اپنا تعاون ختم کر رہا ہے۔
ملائیشیا کی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سعودی عرب میں موجود اپنے فوجیوں کو بھی جو یمن کی جنگ میں شامل ہیں، واپس بلا لیا جائے گا۔
ملائیشیا کے وزیر دفاع محمد سبو نے مزید کہا کہ ان کا ملک آج کے بعد سے جنگ یمن میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا اور سعودی اتحاد میں شامل ملائیشیائی فوجیوں کی واپسی کے شیڈول کا عنقریب اعلان کر دیا جائے گا۔
ملائیشیا میں مہاتیر محمد کی قیادت والے سیاسی اتحاد کی کامیابی کے نتیجے میں سعودی عرب کو اس ملک کے عوام کے ہاتھوں سنگین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب تون رزاق پر کہ جن کے سعودی حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، کوالالامپور ریاض تعاون میں مالی بدعنوانیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
نجیب تون رزاق کے دور حکومت میں ملائیشیا میں سعودی اثر و رسوخ میں بے حد اضافے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندانہ نظریات اور سوچ بھی تیزی کے ساتھ فروغ پا رہی تھی جسے ملائیشیا کے اعتدال پسند عوام اور سیاستداں، مستقبل کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔