فلسطینیوں کے واپسی مارچ پر صیہونیوں کی وحشیگری
غزہ کے فلسطینی باشندوں نے تیسویں ہفتے بھی انتفاضہ قدس کے نعرے کے ساتھ کئے جانے والے واپسی مارچ میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور اس ہفتے بھی صیہونی فوجیوں نے نہتے فلسطینیوں کے خلاف بربریت اور وحشیانہ جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے کم سے کم ایک فلسطینی کو شہید اور دوسو سے زائد دیگر کو زخمی کر دیا۔
غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز تیسویں واپسی مارچ میں ہزاروں فلسطینیوں نے حصہ لیا۔اس درمیان واپسی مارچ کا اہتمام کرنے والی اعلی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا اور فلسطینیوں کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے یہ مظاہرے بدستور جاری رہیں گے۔تیس مارچ دو ہزار اٹھارہ سے جاری فلسطینیوں کے گرینڈ واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک دو سو سے زائد فلسطینی شہید اور بائیس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔فلسطینی عوام نے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے تیس مارچ دو ہزار اٹھارہ سے گرینڈ واپسی مارچ کا آغاز کیا تھا جس کے تحت ہزاروں افراد ہر جمعے کو غزہ سے ملنے والی مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کی جانب مارچ کرتے ہیں۔اس مارچ کا مقصد امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اور سات سال سے جاری غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خلاف احتجاج کرنا ہے-اسرائیل نے سن دو ہزار چھے سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ وہاں بنیادی اشیا کی ضرورت کی ترسیل کی راہ میں شدید رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں غزہ کے فلسطینیوں کو غذائی اشیا، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے-