ترکی کے خلاف ییان جاری کرنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی
شام کے خلاف ترکی کی فوجی جارحیت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا ۔
جمعرات کی رات جرمنی، برطانیہ ، بلجیئم ، فرانس اور پولینڈ کی درخواست پر شام کے خلاف ترکی کی فوجی جارحیت کا جائزہ لینے کے لئے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کا اجلاس ہوا۔اس اجلاس میں امریکا اور روس کی مخالفت کی وجہ سے شام کے خلاف ترکی کی فوجی جارحیت کی مخالفت میں کوئی بیان صادر نہیں ہوسکا ۔اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویسلی نبنزیا نے شام کے خلاف ترکی کی اس جارحیت کو شام میں امریکی اتحاد کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔روسی مندوب ویسلی نبنزیا نے کہا کہ شام کے خلاف ترکی کی حالیہ فوجی جارحیت کی ذمہ داری امریکا اور ، نام نہاد داعش مخالف امریکی اتحاد میں شامل بعض دیگر ملکوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔انھوں نے کہا کہ نام نہاد داعش مخالف امریکی اتحاد نے داعش کے خلاف جنگ کے بجائے، شمالی شام میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ ترکی کی فوجی جارحیت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے ۔ویسلی نبنزیا نے کہا کہ ماسکو نے پہلے ہی نام نہاد داعش مخالف امریکی اتحاد کے اراکین کو ان کی غلط پالیسیوں کے نتائج کی جانب سے خبردار کردیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ نام نہاد داعش مخالف امریکی اتحاد نے شام میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا جو فتنہ بویا تھا آج اس کا نتیجہ دنیا کے سامنے ہے ۔یاد رہے کہ امریکا نے اگست دو ہزار چودہ میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف مہم کے بہانے، اقوام متحدہ کے دائرے سے ہٹ کر اور شام کی قانونی حکومت کی ہم آہنگی کے بغیر ایک بین الاقوامی اتحاد کا اعلان کیا تھا ۔لیکن اس اتحاد نے نہ صرف یہ کہ داعش کے خلاف کبھی کوئی موثر کارروائی انجام نہیں دی بلکہ داعش کے خلاف شام کی فوج ، عوامی رضا کارفورس اور استقامتی محاذ کے ہر آپریشن میں رخنہ اندازی کی ، داعش کے لئے اسلحے گرائے اور داعش سے جنگ کرنے والوں پر حملے کئے ۔نام نہاد داعش مخالف امریکی اتحاد نے اسی کے ساتھ شام میں آبادی کا تناسب بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔امریکا نے اسی کے ساتھ شام کے کردوں کی حمایت کی اور ترکی کے مقابلے میں ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا لیکن گزشتہ پیر کو ، ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ٹیلیفونی گفتگو کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کردیا کہ چونکہ ترکی شام کے کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر حملہ کرنا چاہتا ہے اس لئے ان علاقوں سے امریکی فوجیوں کو نکالا جارہا ہے۔سرانجام نے ترکی نے امریکی کی جانب نے گرین سگنل ملنے کے بعد بدھ کی شام سے شام کے کرد آبادی کے علاقوں پر حملے شروع کردیئے ۔ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حملے شروع کرنے سے پہلے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ملکوں کے سفیروں کو اس کی اطلاع دے دی تھی ۔