Feb ۰۷, ۲۰۲۰ ۱۴:۴۱ Asia/Tehran
  • شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی پر سلامتی کونسل کی خاموشی قابل مذمت ہے

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے ترکی اور اسرائیل کی جانب سے اپنے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل کے بعض رکن ملکوں کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بعض ممالک نے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کو شام کے خلاف دباؤ اور اشتعال انگیزی کا ہتھکنڈہ بنا رکھا ہے۔

جمعرات کی شب سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شام کے مستقل مندوب بشار الجعفری کا کہنا تھا کہ بعض حکومتیں اور خاص طور سے مغربی ممالک کھلم کھلا شام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اپنے ناجائز مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی ادارے کو استعمال کرنے سے گریزاں نہیں۔اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے شام پر غاصبانہ قبضے کے خاتمے، دہشت گردوں کی مالی حمایت کے خاتمے اور جارحیت بند کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ، دہشت گردی کے خلاف شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے انجام پانے والی کوششوں کی حمایت کی جانا چاہیے۔بشار الجعفری نے مزید کہا کہ صوبہ ادلب بھی شامی سرزمین کا ایک حصہ ہے اور دمشق حکومت اس علاقے میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے واضح کیا کہ بحران شام کے سیاسی راہ حل تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ مغربی ممالک دمشق کے خلاف مخاصمانہ رویہ ترک اور دہشت گردی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چھوڑ دیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شام کے صوبے ادلب کی صورتحال کو انتہائی بحرانی قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کے صوبے ادلب کی صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے بچانے کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برداری کو چاہیے کہ وہ ادلب کے معاملے میں ہوشیاری سے کام لے اور دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے عام شہریوں کو تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات انجام دے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ ادلب کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا پورا پورا احترام کیا جائے۔اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویسلے نبنزیا نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب شام میں دہشت گردوں کا وجود خطرے میں پڑا گیا ہے اور دمشق حکومت اپنی قلمرو کے ایک حصے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔روسی مندوب کا کہنا تھا کہ شام میں موجود تمام دہشت گرد گروہوں کے نام خود اقوام متحدہ کی جاری کردہ دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل ہیں اور شامی حکومت کو ان کے خلاف جنگ کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ویسلے نبنزیا نے امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کو آڑے ہاتھوں لیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جو حملے کیے ہیں وہ ادلب کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ بعض ملکوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف تھے۔ انہوں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کو "ادلب کے عوام" نہیں بلکہ "ادلب میں موجود لوگ" کہنا چاہیے کیونکہ ادلب کوئی ملک نہیں بلکہ شام کا ایک صوبہ ہے جہاں آباد شامی شہریوں کو دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔صوبہ ادلب کےلئے آزادی کے شامی فوج کے آپریشن اور پیشقدمی کے بعد اقوام متحدہ میں امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے نمائندوں نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہر ماہ دو مرتبہ اجلاس بلا کر شام کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے۔نام نہاد داعش مخالف اتحاد میں شامل امریکہ برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کے اقدامات اور فوجی موجودگی ہی شام میں بدامنی اور عدم استحکام کے جاری رہنے کی سب سے بڑی وجہ شمار ہوتی ہے۔