ترکی کے حالات مسلسل بحرانی ہیں
https://urdu.sahartv.ir/news/middle_east-i197949-ترکی_کے_حالات_مسلسل_بحرانی_ہیں
ترکی کی فضائیہ عراق کے علاقے کردستان کے وسیع علاقوں اور سرحدی صوبوں میں" پی کے کے " کے ٹھکانوں پر بمباری جار رکھے ہوئے ہے۔ دریں اثنا اس جماعت کی فوجی شاخ اور دوسرے مسلح گروہ سڑکوں، مواصلاتی راستوں اور دیہاتوں میں ترک پولیس اہلکاروں اور فوجی مراکز پر حملے کررہے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۱۲, ۲۰۱۵ ۰۹:۵۹ Asia/Tehran
  • ترکی کے حالات مسلسل بحرانی ہیں
    ترکی کے حالات مسلسل بحرانی ہیں

ترکی کی فضائیہ عراق کے علاقے کردستان کے وسیع علاقوں اور سرحدی صوبوں میں" پی کے کے " کے ٹھکانوں پر بمباری جار رکھے ہوئے ہے۔ دریں اثنا اس جماعت کی فوجی شاخ اور دوسرے مسلح گروہ سڑکوں، مواصلاتی راستوں اور دیہاتوں میں ترک پولیس اہلکاروں اور فوجی مراکز پر حملے کررہے ہیں۔

حالیہ تین ہفتوں کے دوران پندرہ عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں اورایک سو سے زیادہ گاڑیوں، ٹرکوں اور ٹینکروں کو آگ لگائی جاچکی ہے۔
ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ایک مہینے کے دوران "پی کے کے" کے ٹھکانوں پر کی جانے والی بمباری میں اس پارٹی کے ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں
۔ دریں اثنا ترکی کے ستّر پولیس اہلکار بھی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب ترکی کے حکام اور پی کے کے دونوں میں سے کسی نے بھی امن مذاکرات کرنے کی بات نہیں کی ہے۔

 ترکی کے صدررجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ جب تک "پی کے کے" کے عناصر اپنے ہتھیار نہیں ڈال دیتے تب تک ان پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

 ترکی میں جاری بدامنی کا ایک بہت ہی خطرناک پہلو یہ ہے کہ حملوں کا دائرہ شہروں تک پھیل چکا ہے۔ بدامنی کے سبب صوبہ شرناخ میں واقع کرد آبادی والے شہر جیزرہ میں سات دن قبل کرفیو لگا دیا گیا تھا جو آج ختم ہو رہا ہے۔ البتہ ترکی حکومت ماضی میں پیدا ہونے والے تقریبا اسی نوعیت کے حالات میں" پی کے کے" کے قیدی رہنما عبداللہ اوجالان کے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حالات میں تبدیلی لانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
 لیکن قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ عبداللہ اوجالان اس مرتبہ "پی کے کے" کے افراد کو جنگ بندی کا حکم دینے پر تیار نہیں ہوئے ہیں-

 توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران اورانصاف و ترقی پارٹی کے ہفتے کے دن کے اجلاس کے فیصلوں کے اعلان کے بعد ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ" پی کےکے" کے افراد یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیں گے اور یوں ترکی میں قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
بصورت دیگرموجودہ بدامنی کے ماحول میں انتخابات کے انعقاد کا کوئی امکان نہیں ہے اورترکی کو زیادہ بحرانی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔