شام میں دہشت گردوں کے خلاف روس کے فضائی حملوں کا آغاز
https://urdu.sahartv.ir/news/middle_east-i198890-شام_میں_دہشت_گردوں_کے_خلاف_روس_کے_فضائی_حملوں_کا_آغاز
روس نے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے۔ نیٹو اور سعودی حکومت نے اس کی مخالفت کی ہے جبکہ ایران نے روس کے اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۱, ۲۰۱۵ ۱۲:۴۷ Asia/Tehran
  • شام میں دہشت گردوں کے خلاف روس کے فضائی حملے
    شام میں دہشت گردوں کے خلاف روس کے فضائی حملے

روس نے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے۔ نیٹو اور سعودی حکومت نے اس کی مخالفت کی ہے جبکہ ایران نے روس کے اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

روس نے بدھ سے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے۔ شام کے مختلف علاقوں میں انجام پانے والے روس کے فضائی حملوں میں بہت سے دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی سینیٹ، رشین فیڈریشن کونسل میں بدھ کے روز شام کے صدر بشار اسد کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لئے روسی فوج بھیجنے کی درخواست پر ووٹنگ کرائی گئی جسے ارکان نے ا تفاق رائے سے منظور کرلیا ہے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے شام میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف روس کے فوجی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے جمعرات کے روز کہا کہ خطے اور دنیا کے امن اور سلامتی کو درپیش مشترکہ چیلنج کی حیثیت سے دہشت گردی سے حقیقی اور مؤثر مقابلہ ایک ضرورت ہے اور اس ہدف کا حصول عراق اور شام کی حکومتوں کے ساتھ، جو دہشت گردی سے مقابلے کا اصل بوجھ اٹھا رہی ہیں، تعاون کی بنیاد پر مشترکہ بین الاقوامی اقدام اور سنجیدہ عزم کا متقاضی ہے۔

مرضیہ افخم نے کہا کہ روس سے شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران شام میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کو دہشت گردی سے مقابلے اور دہشت گردی سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کی راہ میں اٹھایا گیا قدم سمجھتا ہے۔

دوسری طرف سعودی حکومت نے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے فضائی حملوں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سعودی حکومت کے نمائندے عبداللہ المعلمی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران روس سے مطالبہ کیا کہ شام میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائیاں فوری طور پر بند کردی جائیں۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب، شام کے بحران کے تعلق سے روس کے ڈپلومیٹک اقدامات ، داعش سے مقابلے کے لئے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل اوراسی طرح شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے فضائی حملوں کا مخالف ہے۔

نیٹو نے بھی شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے فضائی حملوں پر منفی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نےکہا ہے کہ روس نے شام میں داعش کے بجائے مغرب کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں پر حملے کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران اتفاقیہ طور پر روس اور مغرب کے جنگی طیاروں کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ روس نے مغربی ملکوں کو اطلاع دی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف شام کی حکومت کی درخواست پر اس کی مدد کررہا ہے ، لیکن روس کے بقول ان کے سفارتی اقدامات کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنا چاہئے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ نیٹو کےرکن ممالک خود شام میں دو ہزار گیارہ سے مختلف دہشت گرد گروہوں کی حمایت کررہے ہیں ۔ حتی داعش اور جبہت النصرہ سمیت القاعدہ سے وابستہ تمام تکفیری دہشت گرد گروہوں کی بھی مغربی حکومت اور ان کے علاقائی اتحادیوں جیسے سعودی عرب، قطر، اور ترکی نے بھر پورمدد کی ہے ۔ اس کے علاوہ امریکا کی قیادت میں بننے والے نام نہاد داعش مخالف اتحاد نے بھی نہ صرف یہ کہ اب تک داعش کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی ہے بلکہ عراق اور شام دونوں جگہ داعش کے درمیان اسلحے گرائے ہیں اور داعش کے مخالف عوامی رضاکاروں اور فوجیوں پر بم برسائے ہیں۔