پاکستان بھر میں سعودی عرب کے ظالمانہ اقدام کے خلاف مظاہرے
سعودی عرب کے سرکردہ شیعہ رہنما آیت اللہ نمر باقر نمر کو شہید کیے جانے کے خلاف پاکستان کے تمام شہروں اور ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر میں زبردست مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
ہمارے نمائندے کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں سعودی عرب کے خلاف پرامن مظاہرے کیے گئے جن میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ کوئٹہ میں ہزاروں افراد نے آیت اللہ نمر باقر نمر کی سزائے موت پر علمدرآمد کیے جانے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ مظاہرین حکومت پاکستان سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر سعودی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔
لاھور میں بھی ہزاروں افراد نے سڑکوں پرمارچ کیا اور آیت اللہ نمر باقر نمر کو شہید کیے جانے کی مذمت کی۔ پاکستان کے صنعتی اور تجارتی مرکز کراچی میں بھی ہزاروں کی تعداد میں مر د و خواتین اور بچوں نے شہر کے مختلف علاقوں کی سڑکوں پر پرامن مارچ کیا اور سعودی شاہی خاندان کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرے میں متعدد اہلسنت علما کرام بھی شریک تھے۔ اس موقع پر سرکردہ اہلسنت رہنما علامہ قاضی احمد نورانی نے ہمارنے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا احتجاج بتا رہا ہےکہ سعودی نظام زیادہ عرصے چلنے والا نہیں ہے۔
اندرون سندھ کے دیگر شہروں سے بھی ایسے ہی مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہزاروں لوگوں نے ایک مظاہرے میں شرکت کی ۔ مظاہرے میں شریک لوگوں نے آیت اللہ نمر باقر نمر کو شہید کیے جانے کی مذمت کرتے آل سعود کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام رکوانے کے لیے فوری طور پر مداخلت کرے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے صدر مقام سری نگر اور کرگل لداخ میں بھی ہزاروں لوگ بنا کسی اعلان کے سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے آیت اللہ نمر باقر نمر کو شہید کیے جانے کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ مظاہرین آل سعود مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے سعودی حکومت کو امریکہ کی کاسہ لیس قرار دیا۔