پاکستانی عوام کا سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد میں اسلام آباد حکومت کی شمولیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
پاکستان کے عوام نے سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف بننے والے نام نہاد اتحاد میں حکومت پاکستان کی شمولیت کے خلاف اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا ہے -
مظاہرین نے سعودی قیادت میں دہشت گرد ی کے خلاف بننے والے نام نہاد اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان بھی جاری کیا - مظاہرین نے اس بیان میں جس کی کاپی انہوں نے وزارت خارجہ کو بھی پیش کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس اتحاد سے الگ ہوجائے - مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے سعودی ریال کی وجہ سے اس اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے - مظاہرے میں شریک خاتون گل زہرا نے کہا کہ پاکستان کی فوج اور عوام کا سودا نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی فوج کو چند ارب سعودی ریال کے عوض فروخت کردینے کی کوشش کے سخت خلاف ہیں - واضح رہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ دسمبر میں دعوی کیا تھا کہ اس نے عراق، افغانستان،لیبیا ، مصر اور شام میں دہشت گردی کے خلاف جنک کے لئے چونتیس ملکوں پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دیا ہے - سعودی عرب نے اس اتحاد کا اعلان ایک ایسے وقت کیا ہے جب وہ خود شام میں بشاراسد کی حکومت کے خلاف سرگرم مسلح دہشت گردگروہوں کی سب سے زیادہ حمایت کرنے والے ملکوں میں شامل ہے - وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے - انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لئے اس طرح کے علاقائی اور عالمی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں - سعودی وزیرخارجہ کے دورہ اسلام آباد سے قبل پاکستان سعودی اتحاد میں شمولیت کے سوال پر واضح بیان نہیں دے رہا تھا لیکن عادل الجبیر کے دورہ اسلام آباد کے بعد اس نے کھل کر اس اتحاد کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس پر پاکستان کے مختلف حلقوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے -