کشمیری مسلمانوں کے قتل پر ردعمل میں پاکستان میں یوم سیاہ
حکومت پاکستان نے کشمیری عوام کی حمایت میں انیس جولائی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے
موصولہ رپورٹوں کے مطابق لاہور میں پاکستانی وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انیس جولائی کو کشمیر کے نہتھے مسلمانوں کی حمایت اور جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے قتل کی مذمت میں یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے-
پاکستانی وزیراعظم نے اس اجلاس میں کہا کہ ہندوستان کی سات لاکھ فوج کشمیری عوام کی تحریک کو نہیں کچل سکتی اور کشمیری عوام اپنا حق لے کر رہیں گے- انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد حکومت ، کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتی ہے-
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں طے پایا کہ کشمیر کے بےگناہ عوام کے خلاف ہندوستانی فوج کے اقدامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کے تمام سفارت خانے اور قونصل خانے بیان جاری کریں اور اس میں اس نکتے کی جانب اشارہ کریں کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی دہشت گرد نہیں تھے اور ہندوستان، کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے وہ انسانی حقوق کے قوانین کے برخلاف ہے -
قابل ذکر ہے کہ آٹھ جولائی کو ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے جاں بحق ہونے کے بعد اس ملک کی فوج نے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو دبانے کے لئے پینتیس افراد کو جاں بحق اور پندرہ سو سے زیادہ کو زخمی کر دیا-
پاکستان کی وزارت خارجہ نے کشمیری مسلمانوں کے قتل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا اور انھیں پاکستانی حکومت اور عوام کے شدید احتجاج سے باخبر کیا-