پاکستان کی سیاسی قیادت کو خطرہ
پاکستان کی سیاسی قیادت سمیت 65 افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں چیئرمین کمیٹی رحمن ملک نے کہا کہ کچھ دشمن ممالک پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بدقسمتی سے الیکشن مہم پرامن نہیں رہی، ہارون بلور، سراج رئیسانی اور سیکڑوں ورکرز ہلاک ہوئے جن کی پر قوم غمزدہ ہے، ہم نے افغانستان کی ہر حال میں مدد کی ہے مگر جواب ہمیشہ دوستانہ نہیں ملا اور افغانستان الیکشن کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔
نیکٹا کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سلیمان کا کہنا تھا کہ 65 افراد پر حملوں کی رپورٹ ہے اور ان میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خطرہ ہے، سب سے زیادہ تھریٹ الرٹ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ہیں، ٹی ٹی پی کا نیا سربراہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ تمام ناراض گروپوں کو اکٹھا کر رہا ہے، کالعدم تنظیم جماعت الاحرار اور داعش سے بھی خطرات ہیں، ان کے پاس ایم کیوایم لندن کی طرف سے بھی ایک خطرے کا انتباہ ریکارڈ پر ہے۔
آئی جی اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ پولیس کو 68 تھریٹ الرٹ موصول ہوئے جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران کا نام بھی شامل ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل غیر جانبدار ہے، انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی ایک بڑا خطرہ ہے، 18 ہزار پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے، حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 20 ہزار ہے، الیکشن کے موقع پر مجموعی طور پر 16 لاکھ افراد ڈیوٹی دیں گے، اس میں 8 لاکھ سیکیورٹی اہلکار جبکہ7 لاکھ الیکشن کمیشن کا عملہ ہوگا، ساڑھے 4 لاکھ کے لگ بھگ پولیس اور 3 لاکھ سے زائد فوج کے اہلکار سیکیورٹی دیں گے۔