ایک مغربی شہری کی نظر میں ایران
تحریر: م۔ ہاشم
”پرسپولیس“ فٹبال کلب، ایران کے دو مشہور ترین اور اہم ترین فٹبال کلبوں میں سے ایک ہے۔ اسی کلب کی ٹیم کا نام پرسپولیس ہے۔ آج کل پرسپولیس فٹبال ٹیم کے کوچ کروشیا کے ’برانکو ایوانکو وچ‘ ہیں۔ حال ہی میں عید نوروز کے موقع پر تہران سے شائع ہونے والے فارسی کے ہفت روزہ جریدے ”اطلاعات ہفتگی“ نے برانکو ایوانکو وچ کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا ہے۔ انٹرویو کے بعض اہم اقتباسات کا ترجمہ تلخیص کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ قابل ذکر ہے کہ برانکو ایوانکو وچ اس سے پہلے ایران کی قومی فٹبال ٹیم کے بھی کوچ رہ چکے ہیں۔
اطلاعات ہفتگي: ایک یورپی کی حیثیت سے شاید آپ کو بعض قوانین کی وجہ سے ایران میں رہنا مشکل ہوتا ہوگا؟
برانکو: مجھے ایران میں کسی طرح کی کوئي مشکل محسوس نہیں ہوتی۔ میں روزانہ اپنے کام میں مصروف رہتا ہوں۔ مجھے قوانین کی وجہ سے کوئي پریشانی نہیں ہے۔
اطلاعات ہفتگي: مغربی ذرائع ابلاغ ایران کی امن و سلامتی کے خلاف ماحول بناتے ہیں۔ آپ ایران میں مقیم ایک یورپی کی حیثیت سے ایران میں پائي جانے والی امن و سلامتی کے بارے میں بتائيں۔
برانکو: میں ایران سے باہر ایران کا بہترین سفیر ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ ایران کے خلاف غلط پروپیگنڈا کرتے ہیں لیکن میں جہاں بھی گيا میں نے ایران کے بارے میں دوسروں کے غلط خیالات کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ایران بہت اچھا ملک ہے اور مجھے پسند ہے۔ پہلے بھی ایران میں مجھے کوئي پریشانی یا مشکل پیش نہیں آئي اور نہ ہی اب کوئي پریشانی ہے۔ ایران میں آدھی رات کو گھر سے باہر نکلنے پر کچھ نہیں ہوگا، کوئي پریشانی نہیں ہوگی۔ پوری دنیا میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن ایران میں اس طرح کے واقعات کا کوئي امکان نہیں ہے۔ میرے خیال میں تہران دنیا کا پُرامن ترین دارالحکومت ہے۔ امید ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد زیادہ سیاح ایران آئيں گے اور ایران کو نزدیک سے دیکھ سکیں گے۔ یقینی طور پر تاجر بھی پہلے سے زیادہ ایران آئيں گے اور ایران کی حقیقی تصویر دیکھیں گے۔