بشار اسد کے استعفے کا مطالبہ غیر منطقی ہے: سرگئی لاوروف
Sep ۰۲, ۲۰۱۵ ۰۴:۴۹ Asia/Tehran
-
بشار اسد کے استعفے کا مطالبہ غیر منطقی ہے،سرگئی لاوروف
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شام کے صدر بشار اسد کے استعفے کے مطالبے کو غیر منطقی قرار دیا ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کے دن کہا کہ " اگر ہم دہشت گردی سے مقابلے کے لئے بشار اسد کے استعفے کی غیر مفید اور غیر حقیقت پسندانہ پیشگی شرط سے دستبردار ہو جائیں تو ممکن ہے کہ ہم نے ایک موثر کام انجام دیا ہو" ان کا اشارہ امریکہ اور اس کے بعض یورپی اور علاقائی اتحادیوں کی جانب تھا جو دہشت گرد گروہوں کی مدد سے صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب بشار اسد کی قانونی حیثیت کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے تو یورپ دہری پالیسی اختیار کر لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ " یہ بات منطقی نہیں ہے کہ بشار اسد کو کیمیاوی ہتھیاروں کی نابودی کے لئے تو قانونی حیثیت حاصل ہو لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے نہیں۔" روسی حکام بارہا اس بات پر تاکید کر چکے ہیں کہ ماسکو بشار اسد کی ذات کی حمایت نہیں کرتا ہے بلکہ وہ شام کے منتخب اور قانونی صدر کی حیثیت سے ان کی حمایت کرتا ہے۔
دریں اثنا ایران نے بھی ایک بار پھر شام کی حکومت کی حمایت اعادہ کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے منگل کے دن شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن دی میستورا سے بیروت میں ملاقات کے دوران کہا کہ شام کے بحران کے کسی بھی حل میں صدر بشار کی شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر بشار اسد شام کے بحران کے ہر طرح کے سیاسی حل کا حصہ ہیں۔
دریں اثنا امریکی وزارت خارجہ نے جمعے کے دن ایک بیان جاری کیا جس میں آیا ہے کہ بشار اسد کا استعفی دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کا ایک اہم حصہ شمار ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ شام میں مارچ سنہ دو ہزار گیارہ سے بدامنی جاری ہے اور اب تک دو لاکھ چالیس ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ٹیگس