برطانیہ، بجٹ میں کمی کے باوجود جنگی طیاروں کی خریداری کا اعلان
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i200875-برطانیہ_بجٹ_میں_کمی_کے_باوجود_جنگی_طیاروں_کی_خریداری_کا_اعلان
برطانیہ میں بجٹ میں کمی کی غرض سے فوجی، سیکورٹی اور عام اخراجات میں کمی کے حکومت کے فیصلے کے باوجود وزیر خزانہ جارج آزبورن نے جدید جنگی طیارے ایف پینتیس خریدنے کے لئے بارہ ارب پونڈ سے زیادہ کی رقم مختص کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۲, ۲۰۱۵ ۱۴:۱۹ Asia/Tehran
  • برطانیہ، بجٹ میں کمی کے باوجود جنگی طیاروں کی خریداری کا اعلان
    برطانیہ، بجٹ میں کمی کے باوجود جنگی طیاروں کی خریداری کا اعلان

برطانیہ میں بجٹ میں کمی کی غرض سے فوجی، سیکورٹی اور عام اخراجات میں کمی کے حکومت کے فیصلے کے باوجود وزیر خزانہ جارج آزبورن نے جدید جنگی طیارے ایف پینتیس خریدنے کے لئے بارہ ارب پونڈ سے زیادہ کی رقم مختص کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیر خزانہ جارج آزبورن نے سنڈے ٹائمز میں اتوار کو شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ رقم راڈار کی رینج میں نہ آنے والے ایک سو اڑتیس جنگی طیارے ایف پینتیس خریدنے کے لئے مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان جدید طیاروں کی خریداری کے بعد کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت موجود چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے برطانیہ کی صلاحیت میں اضافہ ہو جائے گا۔

سنڈے ٹائمز کے مطابق ان جنگی طیاروں کی خریداری سے برطانیہ، مشرق وسطی کے علاقے میں اپنی بنیادوں کو مضبوط کر سکے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ دو ہزار تئیس تک چوبیس جنگی طیارے ایک امریکی کمپنی، برطانیہ کے حوالے کر دے گی۔

برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلون نے بھی برطانوی وزیراعظم کے دفتر اور وزارت خزانہ سے کہا ہے کہ موجودہ سیکورٹی خطرات کے پیش نظر ملک کے دفاعی اخراجات میں کمی سے گریز کیا جائے۔ برطانوی وزیر خزانہ جارج آزبورن کے کفایت شعاری کے منصوبے کے مطابق برطانوی وزارت دفاع کے دفتری بجٹ اور بحریہ کے اخراجات میں کمی کی گئی ہے اور ملک کے کچھ فوجی اڈوں کو بند کریا ان کو فروخت کر دیا جائے گا نیز بری فوج کی کچھ یونٹوں کو ختم یا دوسرے یونٹوں میں ان کو شامل کر دیا جائے گا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ برطانیہ کی کنزر ویٹو حکومت کی طرف سے اقتصادی کفایت شعاری کی پالیسیوں کے جاری رہنے اور رفاہ، صحت عامہ اور عام بجٹ میں کافی کمی کئے جانے کی، لیبر پارٹی اور مزدور یونینوں کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی ہے۔

لیبر پارٹی کے رہنما جریمی کوربین نے گزشتہ اکتوبر میں کیمرون حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے عام اخراجات میں بارہ ارب پونڈ کی کمی پر شدید تنقید کی تھی۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دو ہزار دس سے اقتصادی پالیسیوں کو نافذ اور سروسز اورعام بجٹ میں بیس فی صد کمی کرکے بجٹ خسارے میں اضافے کو کسی حد تک کنٹرول کرلیا تھا لیکن یہ پالیسیاں برطانیہ کے، کم آمدنی والے اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔

تازہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی حکومت کی رفاہی خدمات میں کمی سے متعلق پالیسیوں کی وجہ سے برطانیہ میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سروے کے مطابق برطانوی حکومت کی پالیسیوں نے لاکھوں لوگوں کو خط افلاس سے نیچے پہنچا دیا ہے۔

ایک ادارے کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق برطانیہ میں غریب افراد کی تعداد میں تقریبا" آٹھ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔