انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i212599-انقرہ_اور_واشنگٹن_کے_درمیان_کشیدگی_بڑھتی_جا_رہی_ہے
شام اور ترکی کے کردوں کے معاملے پر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے -
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۲:۳۰ Asia/Tehran
  • انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے

شام اور ترکی کے کردوں کے معاملے پر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے -

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ترکی کا اتحاد اب ایک دوسرے کے درمیان محاذ آرائی میں تبدیل ہوتاجا رہا ہے - ترک وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تاریخ میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جن کے دوسرے ملکوں کے ساتھ اتحاد بعد میں محاذ آرائی میں تبدیل ہوگئے- انہوں نے کہا کہ ہم امریکا سے چاہتے ہیں کہ وہ شامی کردوں کی تنظیم وائی پی جی کے مقابلے میں ترکی کی مدد کرے -

ترک وزیراعظم نے انقرہ کے حالیہ بم دھماکوں کے پیش نظر ملک میں سیکورٹی کےاقدامات زیادہ سخت کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ امریکا کسی پس وپیش کے بغیر علاقے کے اپنے اہم اتحادی یعنی ترکی کی حمایت کرے -ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو توقع ہے کہ واشنگٹن انقرہ بم دھماکے کے ردعمل میں یہ بیان دے کہ ترکی پر حملہ امریکا پر حملے کے مترادف ہے -

ترک وزیراعظم کے اس بیان کے باوجود امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ترک حکومت سے کہا ہے کہ وہ شام کے شہر حلب میں کردوں کی تنظیم وائی پی جی کے ٹھکانوں پر گولہ باری بند کردے - واضح رہے کہ شام کے شمالی اور شمال مغربی محاذوں پر شامی فوج، کردوں اورعوامی رضاکارفورس کی دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کامیابیوں نے دہشت گردوں کے سب سے بڑے حامیوں منجملہ ترکی اور سعودی عرب کو ہلاکر رکھ دیا ہے - اسی سلسلے میں سعودی عرب نے، جس کی فوج کو یمن کی جنگ میں پہلے ہی سنگین مشکلات کا سامنا ہے،گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ شام میں اپنی زمینی فوج بھیجنے کو تیار ہے - سعودی عرب کے اس اعلان کی ترکی نے فوری طور پر حمایت کردی تھی -

انقرہ اور واشنگٹن کے حکام کے درمیان جاری بیان بازیوں کے بیچ ترکی کے صدر کے فوجی مشیر شرف مالکوچ نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے شامی کردوں کی تنظیم ڈیموکریٹک الائنس کو دہشت گرد تنظیم اعلان نہ کیا تو اینجرلیک فوجی چھاؤنی کو امریکی طیاروں کے لئے بندکردیا جائے گا - اس درمیان ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا کو بالآخر یہ فیصلہ کرنا ہی ہوگا کہ وہ شامی کردوں کی تنظیم کا اتحادی ہے یا ترکی کا ؟

ترک حکام کے اس قسم کے اصرار کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شامی کردوں کی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم نہیں سمجھتے - یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ ترکی کی اینجرلیک فوجی چھاؤنی کو امریکی فضائیہ کے لئے بند کر دینے پر مبنی ترک حکام کی دھمکی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یہ فوجی چھاؤنی بنیادی طورپر ترکی کے اختیار میں ہے ہی نہیں اور اس پر مغربی ملکوں خاص طور پر امریکا اور نیٹو کی فوجوں کا پورا کنٹرول ہے -