امریکہ علاقے میں اپنی جاسوسی سرگرمیاں بند کر دے: چین کا مطالبہ
چین نے امریکا سےکہا ہے کہ وہ علاقے میں اپنی جاسوسی کی سرگرمیاں بند کر دے۔
چین کی وزارت خارجہ نےایک بیان جاری کر کے بحیرہ جنوبی چین میں امریکا کی جاسوسی کی پروازوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا سے کہا ہے کہ وہ اپنی یہ سرگرمیاں بند کر دے کیونکہ اس سے چین کی سلامتی کے معاملات میں خلل واقع ہو رہا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں امریکا کی جاسوسی اور فوجی پروازوں نے علاقے کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اس لئے یہ پروازیں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں-
چینی وزارت خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت جاری کیا ہے جب امریکا کے جاسوسی طیارے یی پی تھری نے ابھی حال ہی میں چین کے انتہائی جنوبی علاقے نن میں پرواز انجام دی ہے-
پنٹاگون نے اپنے جاسوس طیارے کی اس پرواز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے دو جنگی طیاروں نےاس کا خطرناک طریقے سے پیچھا کیا تھا تاہم چینی وزارت خارجہ نے پنٹاگون کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے-
امریکا نے پچھلے کچھ عرصے سے مشرقی ایشیا خاص طور پر بحیرہ جنوبی چین میں اپنی فوجی موجودگی میں پھر سے اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے اور اس نے لارنس ڈسٹرائر بھی اس علاقے میں روانہ کر دیا ہے۔