دلائی لامہ سے باراک اوباما کی ملاقات پر چین برہم
چین نے دلائی لامہ سے باراک اوباما کی ملاقات پر سخت احتجاج کیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق چین نے جمعرات کے روز تبت کے جلاوطن رہنما دلائی لامہ اور امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان ہونے والی ملاقات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اسی سالہ تبتی رہنما دلائی لامہ نے اوباما کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں اورلینڈو سانحے میں مارے جانے والے افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی، باراک اوباما نے دلائی لاما کے اس اقدام کو سراہا ہے، تاہم چین میں صورتحال خاصی مختلف بتائی جاتی ہے۔
چین نے جو اس ملاقات پر سخت نالاں ہے، پرزور لفظوں میں کہا ہے کہ اوباما نے کسی بھی سربراہ مملکت کی نسبت دلائی لاما سے سب سے زیادہ ملاقاتیں کر کے تبت کے علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان " لو کانک" نے جمعرات کے روز ہونے والی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں کے دونوں کے ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تبت چین کا ایک داخلی مسئلہ ہے اور یہ چین کے اقتدار اعلی سے مربوط ہے لہذا امریکا کو چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فریقین کے درمیان بند دروازوں کے پیچھے اور ذرائع ابلاغ کی پہنچ سے دور ہونے والی ملاقات کو ایک غلط اقدام قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی ملک کے پاس دلائی لاما کے ساتھ ملاقات کا کوئی جواز نہیں ہے۔
" لو کانک" نے کہا کہ اس ملاقات سے واشنگٹن کے خفیہ عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ ہم کسی بھی قیمت پر چین کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے اور جو کوئی بھی علیحدگی پسندانہ اقدام کی کوشش کرے گا اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے ہو گا۔
دلائی لاما نےانیس سو انسٹھ میں تبت پر چین کی حاکمیت کے بعد ہندوستان میں ایک جلاوطن حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ چین "تبت" کو اپنی سرزمین کا اٹوٹ حصہ اور دلائی لاما کو علیحدگی پسند قرار دیتا ہے۔