شام میں فوجی مداخلت کی بابت روس کا امریکہ کو سخت انتباہ
روس نے شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیداروں کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو بحران شام کے فوجی حل کا سخت مخالف ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے جمعے کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ امریکہ میں بعض سیاسی قوتیں شام کے بحران کو فوجی طریقے سے حل کرنے پر مصر ہیں لیکن یہ بحران کے خاتمے کا مناسب حل نہیں ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایک بار پھر متنبہ کیا کہ شام میں حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کے نتیجے میں پورا خطہ بدامنی اور ہرج و مرج کا شکار ہو جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی محمکہ خارجہ کے درجنوں عہدیداروں نے ایک خط کے ذریعے حکومت امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے اس کے خلاف براہ راست فوجی آپریشن کرے۔
امریکہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی سن دوہزار گیارہ سے شام میں سرگرم دہشت گردوں کی مالی اور اسلحہ جاتی حمایت اور امداد کر کے صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک کئی لاکھ بے گناہ افراد مارے جا چکے ہیں۔