برطانوی رکن پارلیمنٹ کے قتل پر سخت ردعمل کا اظہار
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i231979-برطانوی_رکن_پارلیمنٹ_کے_قتل_پر_سخت_ردعمل_کا_اظہار
لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جو کوکس کے قتل پر پورے برطانیہ میں زبردست ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۴ Asia/Tehran
  • برطانوی رکن پارلیمنٹ کے قتل پر سخت ردعمل کا اظہار

لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جو کوکس کے قتل پر پورے برطانیہ میں زبردست ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے شہر ویسٹ یارکشائر کے قریب واقع گاؤں برسٹل میں لیبر پارٹی کی خاتون رکن پارلیمنٹ جو کوکس کو جمعرات کو انتخابی مہم کے دوران فائرنگ اور چاقو کے وار سے زخمی ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

ویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے باون سالہ حملہ آور شخص تھامس میر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق بائیں بازو کے ایک اتنہا پسند گروہ سے ہے اور اس نے مذکورہ رکن پارلیمنٹ پر حملہ کرتے وقت، کئی بار سب سے پہلے برطانیہ کا نعرہ بھی لگایا تھا۔

واضح رہے کہ ’سب سے پہلے برطانیہ' ایک نسل پرست گروہ ہے جسے نیشنل برٹش پارٹی کے سابق رکن پاول گولڈنگ نے سن دوہزار گیارہ میں قائم کیا تھا ۔ یہ گروہ برطانیہ میں تارکین وطن کی آمد اور خاص طور پر ملک میں اسلام کی ترویج کا سخت مخالف ہے۔ البتہ مذکورہ گروہ نے جمعرات کی شام ایک بیان جاری کرکے، اعلان کیا تھا کہ جوکوکس کے قتل کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایسے اقدات کی ترغیب دلاتا ہے۔

لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے اس واقعے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کوکس کے قتل سے ان کی پارٹی کو سخت دھچکہ لگا ہے۔ انہوں نے جوکوکس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی پارلیمانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران قتل کیا گیا ہے۔

جیرمی کوربن نے جو کوکس کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قتل کی خبر بہت درناک ہے، وہ عظیم رکن پارلیمنٹ تھیں اور انہوں نے بہادری سے انتخابی مہم چلائی۔

برطانیہ کے دوسرے سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات نے بھی جوکوکس کے قتل کو انتہائی وحشتناک اور قابل افسوس قرار دیا ہے۔

جوکوکس کے شوہر برنڈن کوکس نے اپنے بیان میں کہا کے ان کی اہلیہ کو اسی نفرت کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے خلاف وہ عرصے سے جدوجہد کر ر ہی تھیں۔

قابل ذکر ہے کہ جوکاکس برطانوی پارلیمنٹ کے شام دوستی گروپ کی سربراہ اور شام میں فوجی مداخلت کی سخت مخالف تھیں۔

وہ دارالعوام کے ان ارکان میں سے تھیں جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شامی پناہ گزینوں کو برطانیہ میں بسانے کی حمایت کر رہی تھیں۔ انہیں ایسے وقت میں قتل کیا گیا جب برطانیہ سے یورپی یونین کے اخراج کے لیے ریفرنڈم کے انعقاد میں صرف ایک ہفتہ باقی بچا ہے۔