بی ڈی ایس اور صیہونی حکومت پر طاری خوف و ہراس
صیہونی حکومت کے صدر نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی عالمی تحریک بی ڈی ایس کی سرگرمیوں کے جاری رہنے کے نتائج کی بابت خبردار کیاہے-
ریڈیواسرائیل کے مطابق اسرائیل کے بائیکاٹ کی عالمی تحریک بی ڈی ایس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے میں صیہونی حکومت کی ناکامی کے بعد، اسرائیلی صدر روبین ریولین Reuben RIVLIN نے ، "BDS" کی سرگرمیوں کے بارے میں جو صیہونی حکومت کی سلامتی کے لئے اسٹریٹیجک خطرے میں تبدیل ہوگئی ہے، تشویش کا اظہار کیاہے-
دوسری جانب فلسطین کی قومی ایکشن کمیٹی کے سربراہ مصطفی برغوثی نے صیہونی حکومت کے صدر کے بیان کو ، اسرائیل کا وسیع پیمانے پر بائیکاٹ کئے جانے کے اقدامات، اور بی ڈی ایس نامی تحریک سے اسرائیل کے خوف وہراس کی علامت بتایا ہے-
فلسطینی رہنما مصطفی برغوثی کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک بی ڈی ایس کی سرگرمیوں کی وجہ سے صیہونی حکومت کو اکتیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا- انہوں نے کہاکہ فلسطینی منڈیوں میں ساٹھ فیصد سے زائد اسرائیلی مصنوعات پر پابندی ہے اور یہ بی ڈی ایس کی ایک بڑی کامیابی ہے-
فلسطینی رہنما مصطفی برغوثی نے کہاکہ اس تحریک نے عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے صیہونی وزیراعظم نتنیاہو کے منصوبے کو زبردست نقصان پہنچایاہے- اسرائیل کے بائیکاٹ کی عالمی تحریک بی ڈی ایس نے دوہزار پانچ میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا - اس تحریک کا نعرہ ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، انیس سواڑتالیس کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سرمایہ کاری نہ کی جائے اور صیہونی حکومت کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے -