شام میں فوج موجود رہے گی: روس کی دوبارہ تاکید
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ اگر شام میں ماسکو کی فوجی مداخلت نہ ہوتی تو داعش اور القاعدہ کا پرچم دمشق میں لہرا جاتا-
رای الیوم کے مطابق ویتالی چورکین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ماسکو کو امید ہے کہ شام کے بارے میں واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ تعاون کا سلسلہ شروع ہوگا اور روس نہیں چاہتا کہ تیسری عالمی جنگ رونما ہو-
چورکین نے مزید کہا کہ ماسکو شام میں امریکہ کے یک طرفہ اقدامات کو قبول نہیں کرے گا -
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکا اور روس کے درمیان شام کے معاملے پراگرچہ مذاکرات معطل ہوچکے ہیں لیکن روس کے ساتھ قائم کیے گئے رابطوں کو جاری رکھا جائے گا تاکہ شام میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق متنازع کارروائیوں کے امکان میں کمی لائی جا سکے۔
ویتالی چورکین نے کہا کہ ماسکو شام میں جنگ بندی جاری رہنے کے تعلق سے یکطرفہ تدابیر اختیار کرنے کے درپے نہیں ہے-
انہوں نے فرانس کی جانب سے سلامتی کونسل کو پیش کئے گئے مسودے کے بارے میں کہا کہ اگر اس مسودے میں پیش کیا گیا نقطہ نظر یہ ہو کہ شام کے فوجی یکطرفہ طور پر لڑائی بند کردیں تو یہ قرارداد ہرگز نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی-
یہ قرارداد صرف اسی صورت میں قابل عمل ہوگی جب ماسکو، دہشت گردوں کے خلاف ہم آہنگ اور ٹھوس تدابیر اپنائے جائے پر اپنی رضامندی ظاہر کردے-