ایران کے خلاف سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل کے بے بنیاد دعوے
میونخ سیکورٹی کانفرنس میں سعودی عرب، ترکی اور اسرائیل کے نمائندوں نے ایران کے خلاف بے بنیاد دعوؤں کا اعادہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے فوجی امور کے وزیر لیبرمین نے اتوار کے روز ایران کے ساتھ طے پانے والے ایٹمی معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ معاہدہ، شمالی کوریا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تکراری کاپی ہے۔
انھوں نے ایک امریکی فوجی کمانڈر کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی کو تین بنیادی خطرات کا سامنا ہے وہ خطرہ ایران، ایران اور ایران ہے۔
لیبرمین نے کہا کہ ایران کا مقصد، مشرق وسطی کے ملکوں منجملہ سعودی عرب کو کمزور کرنا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی میونخ سیکورٹی کانفرنس سے خطاب میں اسرائیل کے فوجی امور کے وزیر لیبرمین سے ہم آواز ہو کر ایران کو دہشت گردی کا حامی اور سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقیقت پسند اور عمل کرنے والے صدر ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ تجزیہ نگار ہی نہیں بلکہ مشکلات کو حل کرنے والے ہیں۔
عادل الجبیر نے کہا کہ امریکہ اگر عالمی نظم و نسق چلانے سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لے تو پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہو جائے گا اس لئے کہ اقتدار میں خلا واقع ہو جائے گا کہ جسے پھر شرپسند قوتیں پر کریں گی۔
دریں اثنا ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ ترکی، مشرق وسطی کے امن کے عمل میں ماضی سے کہیں زیادہ مدد کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران، شام اور عراق کو شیعہ ملکوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ بات بہت زیادہ تشویشناک ہے۔