ٹرمپ کی آمد کے خلاف ریاست ٹینسی میں مظاہرہ
ریاست ٹینسی میں سیکڑوں طلبہ اور ٹرمپ مخالفین نے ان کی نیشویل آمد کے موقع پر مظاہرے کیے ہیں۔
خبروں کے مطابق سیکڑوں تعداد میں طلبہ اور عام لوگ ریاست ٹینسی کے شہر نیشول کی سڑکوں پر آئے اور انہوں نے صدر ٹرمپ کی آمد کے خلاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر ٹرمپ کے حامیوں کی بھی ایک بڑی تعداد وہاں جمع ہوگئی اور دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ٹرمپ مخالفین، میڈیکل بیمہ منسوخ کیے جانے، نئے سفری احکامات اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کیے جانے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق ٹرمپ مخالف مظاہرے میں سول سوسائٹی اورحقوق نسواں کی حامی تنظیموں کے کارکنوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
فسک یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی ٹرمپ کی نیشول آمد کے خلاف کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور مظاہریں کی صفوں میں شامل ہوگئے۔
مظاہرین نے نشول میں اس مقام تک مارچ کیا جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریر کر رہے تھے۔ اس دوران ٹرمپ کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان ہونے والی نوک جھونک بعد پولیس نے دو افراد کو حراست میں لے لیا۔