سعودی عرب کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات پر امریکیوں کا احتجاج
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حادثے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے سعودی عرب کے وزیر دفاع کے ساتھ صدر ٹرمپ کی ملاقات پر احتجاج کیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق گیارہ ستمبر کے واقعے میں ہلاک ہونے والے بعض افراد کے اہل خانہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان سے ملاقات پر انھیں احتجاجی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کا شاہی خاندان، دولت اور پروپیگنڈے کے ذریعے گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات میں اپنے کردار پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس مراسلے میں امریکی عدالتوں میں سعودی عرب کے خلاف کیس دائر کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت، ان دہشت گردانہ حملوں کی ملزم ہے۔
اس مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی آل سعود حکومت دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں سعودی عرب کے کردار کے بارے میں امریکی کانگریس میں پاس کئے جانے والے جاسٹا قانون کی حمایت کی تھی۔
اس قانون کے تحت گیارہ ستمبر کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین، سعودی عرب کے خلاف کیس دائر اور اس سے تاوان لینے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی خفیہ اداروں نے رپورٹ دی تھی کہ گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں، کہ جن میں تین ہزار افراد مارے گئے تھے، سعودی عرب کے انّیس شہری ملوث رہے ہیں۔