شام پر حملے کے خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں مظاہرے
امریکا کے مختلف شہروں کے باشندوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔
امریکی شہریوں نے ملک کے مختلف شہروں منجملہ واشنگٹن ، نیوریارک ، لاس آنجلس اور فیلا ڈلفیا میں سڑکوں پر نکل کر
شام پر امریکا کے حملے کی مذمت کی اور شامی عوام کی حمایت کا اعلان کیا۔
اس موقع پر امریکی پولیس اور سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد سڑکوں پر تعینات تھی اور انہوں نےمتعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ شام پر امریکا کا حملہ اس ملک کے بحران کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے بحران مزید پیچیدہ ہوگا۔ ہفتے اور اتوار کو ٹرمپ انتظامیہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے خلاف امریکا کے پچاس شہروں میں مظاہرے ہونےوالے ہیں۔
ادھر برطانوی شہریوں نے بھی لندن میں وزیراعظم کے دفتر کے باہر اجتماع کرکے شام پر امریکی حملے کی حمایت کرنے پر تھریسا مئے کے بیان کی مذمت کی اور اس کو شرمناک قراردیا۔
لندن میں احتجاجی اجتماع میں شریک لوگوں نے نعرے لگائے کہ جنگ اور خونریزی کو بندکیا جائے بمباری اور نفرتوں کا خاتمہ کیا جائے۔ مظاہرین نے تھریسامئے اور ٹرمپ شرم کرو جیسے نعرے بھی لگائے۔
مظاہرین ایسے پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھاکہ شام پر بمباری بند کرو ۔
مظاہرے کا اہتمام کرنےوالی کمیٹی کے ایک عہدیدار مراد قریشی نے اس موقع پر کہاکہ شام پر امریکا کے حملے سے شام کی مشکل حل نہیں ہوگی۔
مظاہرے کا اہتمام کرنےوالی کمیٹی کے ایک اور عہدیدار کریس ناینہام نے بھی کہا کہ تھریسا مئے نے جلد بازی میں ٹرمپ کے مجرمانہ اقدام کی حمایت کی ہے۔
دریں اثنا برطانیہ کی حزب اختلاف لیبرپارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے بھی شام پر امریکا کے حملے کو ایک غلطی قراردیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہاکہ شام پر امریکا کا حملہ اس ملک میں جنگ میں شدت کا باعث بنے گا۔ان کا کہنا تھاکہ شام کا بحران سیاسی اور سفارتی طریقے سے ہی حل کیا جانا چاہئے۔