شام پر حملے کے لیے برطانیہ امریکہ گٹھ جوڑ
برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے شام پر ممکنہ امریکی حملے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ مغربی ممالک دوہفتے گزر جانے کے باوجود شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو ثابت نہیں کرسکےہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ حکومت برطانیہ نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم لندن کے لیے شام پر حملے کے لیے امریکی درخواست کو مسترد کرنا انتہائی دشوار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت برطانیہ کو ، شام کے شعیرات فوجی ایئر بیس پر حملے سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فرمان کا پہلے سے علم تھا۔امریکہ نے گزشتہ دنوں شام کے صوبے حمص کے قریب واقع شامی فوج کے ایک ایئر بیس کو درجنوں کروز میزائیلوں کا نشانہ بنایا تھا۔ امریکہ نےدعوی کیا تھا کہ یہ حملہ خان شیخون پر روسی اور شامی طیاروں کی کیمیائی بمباری کے جواب میں کیا گیا ہے۔دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ مغربی ممالک پندرہ روز گزر جانے کے باوجود کیمیائی حملے سے متعلق ٹھوس ثبوت اور شواہد پیش نہیں کرسکے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل ایگور کوناشنکوف نے کہا ہے کہ خان شیخون پر کیمیائی حملے سے متعلق محض دو ویڈیوکلپ ہی پیش کئے گئے ہیں جن میں اس حملے کی منظرکشی کی گئی ہے تاہم پیشتر ماہرین اس حملے کو مشکوک قرار دے رہے ہیں اور ایسے ماہرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وائٹ کیپ والے رضاکار کیمیائی حملے سے محفوظ رکھنے والے مخصوص ماسک اور لباس کے بغیر، جائے حادثہ پر موجود ہوں اور انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔ایگور کوناشنکوف نے کہا کہ یہ شواہد، مغربی ملکوں کے اس دعوے کو مشکوک اور غیر موثر کردیتے ہیں جس کے تحت انہوں نے واقعے کی حقیقی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بغیر ہی شام کی حکومت پر اس کا الزام عائد کیا ہے۔کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی ادارے او پی سی ڈبلیو کے ماہرین نے خان شیخون پر کیمیائی حملے کو شام کے خلاف بیرونی حملے کی سازش قرار دیتے ہوئے روس اور ایران کے ساتھ مل کر اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔