امریکی وزارت جنگ کے اختیارات میں اضافہ
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i280806-امریکی_وزارت_جنگ_کے_اختیارات_میں_اضافہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کے وزیر دفاع کو اپنے کچھ اختیارات دے دیئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۱:۳۹ Asia/Tehran
  •  امریکی وزارت جنگ کے اختیارات میں اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کے وزیر دفاع کو اپنے کچھ اختیارات دے دیئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کے مطابق شام اور عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا اختیار امریکی وزیر دفاع کو دے دیا گیا ہے اور جیمز میٹیس مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے ٹرمپ سے اجازت حاصل کئے بغیر ہی اپنے مشیروں کے ساتھ صلاح و مشورہ کر کے جتنی تعداد میں چاہیں، امریکی فوجیوں کو شام و عراق روانہ کر سکیں گے۔
امریکی وزیر دفاع کو مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے اختیارات حاصل ہو جانے کے بعد جیمز میٹیس کو اس بات کا بھی اختیار ہو گا کہ وان ممالک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کو خفیہ رکھیں اور کوئی بھی بات منظرعام پر نہ آنے دیں۔
البتہ امریکی وزارت دفاع اور فوج کو اختیارات سونپنے سے متعلق ٹرمپ کا کوئی یہ پہلا اقدام نہیں ہے اور کچھ دن قبل امریکی فوجی کمان نے افغانستان میں بعض ٹھکانوں پر حملے میں سب سے بڑے غیرایٹمی بم کا استعمال کیا تھا جس کے بعد اعلان کیا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے فوج کو اس قسم کے اختیارات دے دیئے ہیں اور اب شام و عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے باضابطہ اعلان کے مطابق عراق میں امریکہ کے پانچ ہزار، دو سو باسٹھ فوجی اور شام میں پانچ سو تین فوجی موجود ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ان دونوں ملکوں میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ لگایا گیا ہے۔
اس رو سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے نہ صرف ماضی کی امریکی حکومتوں کے راستے کو منتخب کر لیا ہے بلکہ امریکی فوج کو مزید اختیارات بھی دے دیئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ کی تین اہم وزارتوں اور عہدوں یعنی وزارت دفاع، اندرونی سلامتی کی وزارت اور قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے تین فوجی جنرلوں کے انتخاب سے امریکی کابینہ کو فوجی کابینہ بھی کہا جانے لگا ہے۔
شام پر کروز میزائلوں سے حملہ کئے جانے، جزیرہ نمائے کوریا کے اطراف میں فوجی توانائی کی تقویت اور افغانستان میں سب سے بڑے غیر ایٹمی بم گرائے جانے کے بارے میں امریکی صدر کے اختیارت کے استعمال اور اسی طرح اب فوج کے اختیارات میں اضافہ کئے جانے سے امریکہ کے سیاسی ڈھانچے میں فوجی مہم جوئی میں تیزی آنے کا پتہ چلتا ہے۔