ایران میں جمہوریت کا اعتراف اور سعودی آمریت پر تنقید
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i283584-ایران_میں_جمہوریت_کا_اعتراف_اور_سعودی_آمریت_پر_تنقید
ایک امریکی سینیٹر نے کہا ہے کہ سعودی حکومت ایران اور علاقے میں عام شہریوں کے قتل عام کے سلسلے میں جنون کا شکار ہو گئی ہے جبکہ ایک بین الاقوامی تجزیہ نگار نے ایران میں صدارتی الیکشن کے شاندار انعقاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کے کسی بھی حکمراں کے پاس ایران جیسے انتخابات کرانے کی جرائت نہیں ہے۔
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
May ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۰:۲۲ Asia/Tehran
  • ایران میں جمہوریت کا اعتراف اور سعودی آمریت پر تنقید

ایک امریکی سینیٹر نے کہا ہے کہ سعودی حکومت ایران اور علاقے میں عام شہریوں کے قتل عام کے سلسلے میں جنون کا شکار ہو گئی ہے جبکہ ایک بین الاقوامی تجزیہ نگار نے ایران میں صدارتی الیکشن کے شاندار انعقاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کے کسی بھی حکمراں کے پاس ایران جیسے انتخابات کرانے کی جرائت نہیں ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے رکن کریس مورفی نے صدر ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر ہافینگٹن پوسٹ ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ آل سعود حکومت، ایران کے بارے میں جنون کا شکار ہو گئی ہے اور نیابتی جنگیں منجملہ یمن پر سعودی حملے اسی جنون کا نتیجہ ہے-

کریس مورفی نے سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے فوجی معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کو خبردار کیا ہے کہ ریاض، امریکی ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے ان ہتھیاروں سے علاقے اور خاص طور پر یمن میں عام شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے-

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے رکن کریس مورفی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ واشنگٹن نے امن و سیکورٹی کے قیام پر ایک ایسے ملک پر تکیہ کیا ہے کہ جس کا علاقے میں انسانی حقوق کے تعلق سے بدترین ریکارڈ ہے، کہا کہ سعودی عرب اس وقت یمن کے عوام کو اس قدر بھوک و افلاس کا شکار بنا دینا چاہتا ہے کہ یمن کے شہری خود بخود دم توڑ دیں-

اس درمیان بین الاقوامی مسائل کے بارے میں امریکا کے سینیئر تجزیہ نگار رابرٹ فیسک نے ایران میں صدارتی الیکشن کے شاندار انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی سعودی حکمراں میں ایران کی طرح اپنے ملک میں الیکشن کرانے کی ہمت و جرائت نہیں ہے-

انہوں نے برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ  میں اپنے مقالے میں ایران کے انتخابات کے انعقاد کی تعریف کی اور لکھا کہ پچاس ڈکٹیٹر جو سعودی عرب میں امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں، کسی میں ایران کی طرح انتخابات کرانے کی ہمت نہیں ہے-

رابرٹ فیسک نے ایران کے صدارتی الیکشن میں حسن روحانی کی کامیابی کو ایران کے لئے اچھی خبر جبکہ ٹرمپ اور خلیج فارس کے علاقے میں ان کے اتحادیوں کے لئے ناخوشایند قرار دیا-

سرکردہ امریکی تجزیہ نگار نے اپنے  تجزیئے کے ایک اور حصے میں ٹرمپ سے ملاقات کے لئے خلیج فارس کے عرب ملکوں کے حکمرانوں کے یکجا ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جرائم پیشہ ڈکٹیٹروں اور استبدادی حکومتوں کے سربراہوں کا اجتماع ہے-

رابرٹ فیسک نے لکھا کہ ریاض میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے لئے جتنے بھی ملکوں کے رہنما وہاں پہنچے ہیں ان میں لبنان، پاکستان اور تیونس جیسے ملکوں کو چھوڑ کر سبھی ممالک جمہوریت کو، طنز اور ایک بے ربط مفہوم کا نام دیتے ہیں کہ جنھوں نے جمہوریت کا ذائقہ تک نہیں چکھا ہے-

مذکورہ امریکی تجزیہ نگار نے ایران کے صدارتی الیکشن میں ستر فیصد سے زائد رائے دہندگان کی شرکت کا امریکا کے حالیہ صدارتی الیکشن میں اٹھاون فیصد ٹرن آؤٹ کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایرانی عوام میں سیاسی شعور اور بالیدگی پائی  جاتی ہے اور وہ اپنے ملک کے صدارتی الیکشن کو خاص اہمیت دیتے ہیں-