یمن کی صورتحال پراقوام متحدہ کی تشویش
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i284956-یمن_کی_صورتحال_پراقوام_متحدہ_کی_تشویش
اقوام متحدہ کے رہنما اسٹیفن اوبرائن نے سعودی عرب کی قیادت میں بنے اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یمن مکمل طور تباہ ہو رہا ہے، عوام کو جنگ، قحط اور ہیضے کا سامنا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۰۱, ۲۰۱۷ ۰۳:۴۶ Asia/Tehran
  • یمن کی صورتحال پراقوام متحدہ کی تشویش

اقوام متحدہ کے رہنما اسٹیفن اوبرائن نے سعودی عرب کی قیادت میں بنے اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یمن مکمل طور تباہ ہو رہا ہے، عوام کو جنگ، قحط اور ہیضے کا سامنا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ برائے امداد اسٹیفن اوبرائن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے خوراک کے بحران کو ختم کیا جائے اور یمن کو واپس بقا کے راستے پر لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بحران آ نہیں رہا اور نہ ہی بحران کا خطرہ منڈلا رہا ہے بلکہ بحران ہمارے ہوتے ہوئے موجود ہے۔ یمن کے عوام کو محرومی، وبا اور موت کا سامنا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے۔

اسٹیفن اوبرائن نے کہا کہ غریب عرب ملک کا بحران مکمل سماجی، معاشی اور ادارتی تباہی کی جانب جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن میں مارچ 2015 میں اس ملک کے مظلوم عوام کے خلاف فوجی کارروائی کا آعاز کیا تھا جس میں اب تک ہزاروں افراد شہید اور لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوئے ہیں جبکہ سعودی جارحیت کے باعث ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور تقریبا 70 لاکھ افراد قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ رواں سال اپریل سے اب تک ہیضے کے باعث 500 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 55 ہزار یمنی بیمار ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 55 ہزار بیمار افراد میں سے ایک تہائی بچے ہیں اور مزید ڈیڑھ لاکھ افراد اگلے چھ ماہ میں ہیضے کا شکار ہو سکتے ہیں۔