شنگھائی تعاون تنظیم کا شام کے بحران کے پرامن حل پر زور
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے شرکا نے شام کے بحران کے حل پر زور دیا ہے۔
قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنطیم کے سربراہی اجلاس میں شریک رہنماؤں نے شام کے بحران کوسیاسی طریقے سے اور شامی گروہوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کئے جانے پر زوردیا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل رشید عالم اوف نے بتایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کا کہنا ہے کہ آستانہ اجلاس شا م میں سبھی گروہوں کے درمیان آئندہ جنیوا مذاکرات میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے ایک قابل قبول حل تک رسائی کے لئے مددگار ثابت ہوسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ تنظیم یوریشیا اور خطے میں ایک اہم تنظیم میں تبدیل ہوگئی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا سترہواں سربراہی اجلاس جمعے کی دوپہر قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شروع ہوا - اجلاس میں ہندوستان اور پاکستان کو باقاعدہ طور پر رکنیت دی گئی جبکہ تنظیم کے ممبرممالک ایران کو بھی مستقل رکنیت دینے کی کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اجلاس میں اقتصادی اور صنعتی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے مقصد سے سیکورٹی کو یقینی بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت جمعے کو چین کے حوالے کئی گئی اور دوہزار اٹھارہ میں اس تنظیم کا سربراہی اجلاس چین میں ہوگا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد دوہزار ایک میں ڈالی گئی۔روس، چین، قرقیزستان، قزاقستان ، تاجیکستان اور ازبکستان اس تنظیم کے ممبرممالک ہیں جبکہ جمعے کو ہندوستان اور پاکستان کو بھی اس تنظیم میں باضابطہ طور پر رکنیت دے دی گئی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی جو اس تنظیم میں مبصر کی حیثیت رکھتا ہے رکنیت دئے جانے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔