عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لئے ٹرمپ کا منصوبہ
امریکی صدر ٹرمپ نے عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لئے پولیس کو جنگی ہتھیار دینے کا پروگرام بنایا ہے دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ نے ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان پر تنقید کی ہے
امریکی صدر ٹرمپ عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لئے پولیس کے ذریعے جنگی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کے قانون کو منسوخ کرنا چاہتے ہیں - روزنامہ یوایس اے ٹوڈے نے خبردی ہے کہ صدر ٹرمپ نے پولیس کو جومنصوبہ پیش کیا ہے اس میں عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لئے ان جنگی ہتھیاروں کےاستعمال کی اجازت دی جاسکتی ہے جن کا استعمال اب تک منع تھا - اس پروگرام میں پولیس کے لئے ان ہتھیاروں کی خریداری کی غرض سے بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے - امریکی پولیس کے بعض ادارے اس بہانے سے کہ ان ہتھیاروں کی خریداری مقامی شورشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے ایک عرصے سے حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ عوامی مظاہروں اور شورش کو کچلنے کے لئے جنگی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کو ختم کرے - یہ معاملہ ایک ایسے وقت میڈیا میں آگیا ہے جب گذشتہ جولائی کے مہینے میں پولیس کے تشدد آمیز اقدامات کے لئے ٹرمپ کی جانب سے حمایتی بیان دینے پر ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاگیاتھا- ٹرمپ نے پولیس اہلکاروں کےایک اجتماع سے خطاب کے دوران حکومت مخالف مظاہرین کی توہین کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی پولیس کوحق ہے کہ وہ ان افراد کو زد و کوب کرے - دریں اثنا امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے صدر ٹرمپ کے نسل پر ستانہ بیان پر تنقید کی ہے - ریکس ٹلرسن نے فاکس نیوز چینل سے گفتگو کے دوران شارلوٹسویل شہر کے واقعات کے بارے میں ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ جو بھی کہتے ہیں وہ ان کا اپنا ذاتی بیان ہے - امریکی وزیرخارجہ نے اس سے پہلے بھی نسل پرستانہ اقدامات کے خلاف ایک بیان جاری کیا تھا - یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ریاست ورجینیا کے شہر شارلوٹسویل کے واقعات پر نسل پرستوں کےاقدامات کی مذمت کرنے کے بجائے دونوں ہی فریقوں کو قصور وار قراردیا تھا جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے - گذشتہ بارہ اگست کو نسل پرست سفید فاموں نے نسل پرستی کے مخالفین پر حملہ کرکے متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کردیا تھا -