ٹرمپ بھی اقوام متحدہ کے خلاف بول پڑا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام نہیں کر رہا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے 72 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر منعقدہ خصوصی اصلاحاتی سیشن میں تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بیوروکریسی سے زیادہ لوگوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
امریکی صدر نے اقوام متحدہ کے دنیا بھر میں جاری آپریشنز پر آنے والے اخراجات کا سب سے زیادہ بوجھ امریکا کی جانب سے اٹھائے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کسی بھی ملک پرغیر منصفانہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے بحالی امن مشنز پر جو خرچہ آتا ہے اس کا 28.5 فیصد حصہ امریکا ادا کرتا ہے جو کہ غیر منصفانہ ہے۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس پر زور دیا کہ وہ عالمی ادارے کی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے میں اقوام متحدہ پر تنقید کی ہے کہ دنیا کے بہت سے ملکوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے اور اگر کبھی اقوام متحدہ کا کسی مسئلے پر امریکہ سے اختلاف ہو تو امریکہ شور مچاتا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے مقاصد سے ہٹ گیا ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 72 واں اجلاس 12 ستمبر سے شروع ہو چکا ہے اور آج 19 ستمبر سے سربراہان مملکت کے خطابات کا سلسلہ شروع ہو گا۔