امریکہ اور پاکستان کے درمیان ڈو مور اورنو مورکی سرد جنگ
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i305329-امریکہ_اور_پاکستان_کے_درمیان_ڈو_مور_اورنو_مورکی_سرد_جنگ
امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس نے دورہ پاکستان سے قبل ہی ڈو مور کا مطالبہ کر دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۰۴, ۲۰۱۷ ۰۵:۲۵ Asia/Tehran
  • امریکہ اور پاکستان کے درمیان ڈو مور اورنو مورکی سرد جنگ

امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس نے دورہ پاکستان سے قبل ہی ڈو مور کا مطالبہ کر دیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان سے مشترکہ مفادات سے متعلق تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، خواہش ہے کہ افغانستان میں مصالحتی عمل میں کردارادا کریں، پاکستان سے تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں تاہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ پاکستانی رہنما کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے لیکن دہشت گردی کی حمایت نہ کرنا پاکستان کی پالیسی اور عمل سے بھی ظاہر ہونا چاہیے اور پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے کہ وہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے۔

امریکی وزیر دفاع کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ آصف خواجہ کا کہنا تھا کہ ڈو مور کا دور گزر گیا امریکا کو حقیقت پسندانہ طرزعمل اختیار کرنا ہوگا،افغانستان کے لیے پاکستان کی قربانیاں سب کے سامنے ہیں افغان سرزمین کودہشت گردی کےلیے استعمال کیاجاتارہا، امریکاکوالزام تراشی کے بجائے اپنے کردار پر وضاحت دینا پڑے گی۔ وزیر خارجہ آصف خواجہ کا کہنا تھا کہ 16 سال سے امریکی فوج افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکی امریکابتائے کہ اس کی پالیسیوں سے د ہشت گردی میں کمی آئی یااضافہ ہوا جبکہ افغانستان میں طالبان ہی نہیں،داعش بھی وجودمیں آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کےلیے خطے کے مفادمیں اقدامات کیے، ہم نے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا۔خواجہ آصف کہتے ہیں کہ افغانستان میں بدامنی رہی توخطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ دورے کے دوران امریکی وزیردفاع جیمزمیٹس، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کریں گے اور خطے کی سیکورٹی، امن وامان کی صورتحال سمیت افغانستان تنازعات اور دو طرفہ امور پر بھی بات کی جائے گی۔