شام میں ایران و روس کی اسٹریٹیجک شراکت پر ٹرمپ کی تشویش
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i334350-شام_میں_ایران_و_روس_کی_اسٹریٹیجک_شراکت_پر_ٹرمپ_کی_تشویش
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک پیغام میں، جو شام میں ایران اور روس کی اسٹریٹیجک شراکت اور دہشت گردوں کی شکست پر واشنگٹن کی تشویش کا آئینہ دار ہے، کہا ہے کہ شامی حکومت کو ادلب پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Sep ۰۴, ۲۰۱۸ ۱۴:۲۰ Asia/Tehran
  • شام میں ایران و روس کی اسٹریٹیجک شراکت پر ٹرمپ کی تشویش

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک پیغام میں، جو شام میں ایران اور روس کی اسٹریٹیجک شراکت اور دہشت گردوں کی شکست پر واشنگٹن کی تشویش کا آئینہ دار ہے، کہا ہے کہ شامی حکومت کو ادلب پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے، ایسی حالت میں کہ خود امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی شام پر دہشت گردوں کے حملوں کی بھرپور حمایت کرتے آئے ہیں، ٹوئیٹ کیا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کو ادلب پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ایران و روس کو شام میں اسٹریٹیجک پارٹنر نہیں بننا چاہئے۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس قسم کے ردعمل کا اظہار ایسی حالت میں کیا گیاہے کہ امریکی حکومت اور اس ملک کے ذرائع ابلاغ عامہ نے حال ہی میں اس بات کا وسیع پیمانے پر پروپیگنڈہ کیا ہے کہ شام کی حکومت، صوبہ ادلب پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنا چاہتی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اپنے دورہ شام میں کہا ہے کہ ادلب میں باقی بچے دہشت گردوں کو علاقے کو خالی کرنا ہو گا۔ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے بھی اعلان کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور پورے ملک سے ان دہشت گردوں کا صفایا کرنا حکومت شام کا حق ہے۔انھوں نے  کہا کہ شام کی حکومت کو جب تک ضرورت رہے گی ایران مشاورتی سطح پر اس کی مدد کرتا رہے گا۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ادلب میں دہشت گردوں کا قلع قمع کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ادلب میں دہشت گرد فائربندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں اور وہ شامی فوج کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات  انجام دے رہے ہیں -انھوں نے مغربی ملکوں کی جانب سے ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی کہانی گڑھے جانے پر خبردار کیا اور اس اقدام کو آگ سے کھیلے جانے کے مترادف قرار دیا۔لاوروف نے کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ ادلب میں ممکنہ اشتعال انگیز اقدامات کے بارے میں رپورٹوں کو نظرانداز نہ کرے۔کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم میں روس کے مستقل نمائندے الیگزنڈر شولگین نے بھی کہا ہے کہ مغربی ممالک، کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کو سیاسی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے ادلب میں مغربی ملکوں کی اشتعال انگیز سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم ایک ماہر عالمی ادارے کی حیثیت سے صراحت  کے ساتھ اور ٹھوس طریقے سے اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کو مسترد اور کارآمد طریقے سے تمام مسائل پر گفتگو کئے جانے کی ضرورت پر زور دے سکتی ہے۔واضح رہے کہ شام میں ادلب کا صوبہ مختلف دہشت گرد گروہوں کے قبضے میں ہے  اور شامی فوج اس علاقے کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کئے جانے کی تیاری کر رہی ہے۔