شام سے امریکی فوج نکالنے کا فیصلہ ٹرمپ کے لئے دردسر
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i340956-شام_سے_امریکی_فوج_نکالنے_کا_فیصلہ_ٹرمپ_کے_لئے_دردسر
شام اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے کے بعد کہ جس کے نتیجے میں وزیرجنگ جیمز میٹس نے استعفا دے دیا ہے، ٹرمپ کو شدید چیلنجوں کا سامنا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۲۴, ۲۰۱۸ ۱۰:۴۴ Asia/Tehran
  • شام سے امریکی فوج نکالنے کا فیصلہ ٹرمپ کے لئے دردسر

شام اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے کے بعد کہ جس کے نتیجے میں وزیرجنگ جیمز میٹس نے استعفا دے دیا ہے، ٹرمپ کو شدید چیلنجوں کا سامنا ہے۔

سال دو ہزار اٹھارہ کے آخری ایام امریکی صدر ٹرمپ کی حکومت کے لئے خارجہ پالیسی کے میدان میں رد و بدل اور تبدیلیوں کے ساتھ رہے-

امریکی وزیرجنگ جیمز میٹس نے جو ٹرمپ انتظامیہ کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں شام اور افغانستان سے فوجیوں کو واپس بلانے کے ٹرمپ کے فیصلے پرناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا-

میٹس نے  استعفے نامے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ خارجہ پالیسی کےمیدان میں اختلافات کو صراحت کے ساتھ بیان کردیا ہے- امریکا کے مستعفی وزیرجنگ نے پٹناگون میں اپنی مدت کے آخری ایام میں شام سے امریکی فوجیوں کے نکلنے کے حکمنامے پر دستخط کر دیئے تاہم پنٹاگون نے اس سلسلے میں کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا کہ امریکی فوجی شام سے کب اور کس طرح سے نکلیں گے-

شام میں امریکی پالیسیوں کے ناکام ہو جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے گذشتہ بدھ کو اچانک شام سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کر دیا- ٹرمپ نے اپنے اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج داعش کو شکست دینےکے لئے شام میں داخل ہوئی تھی اور اب داعش کو شکست دی جا چکی ہے-

شام سے امریکی فوج کو اچانک واپس بلا لینے کے ٹرمپ کے فیصلے کی امریکا کے اندر زبردست مخالفت کی گئی اور وزیرجنگ میٹس نے اس فیصلے کے خلاف اپنے عہدے سے استعفاد دے دیا- جیمز میٹس اس بات سے بھی شدید طور پرناراض ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کی انہیں کوئی اطلاع تک نہیں دی-

  ایک ایسے وقت جب یہ توقع کی جارہی تھی کہ جیمز میٹس اپنے استعفے کے بعد کم سے کم دو مہینے تک اپنے عہدے پر باقی رہیں گے صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ نائب وزیر دفاع پیٹرک شاناہان کو وزارت دفاع کا سرپرست بنایا جا رہا ہے اور وہ پہلی جنوری سے اپنا کام شروع کر دیں گے-

امریکی وزیرجنگ جیمز میٹس کے استعفے کے بعد داعش مخالف نام نہاد امریکی اتحاد میں صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے برٹ میک گورک نے بھی اپنے عہدے سے استعفا دے دیا-

امریکی وزارت جنگ کے ایک عہدیدار نے جس نے اپنا ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے میک گورک کے استعفے نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے استعفے کی وجہ شام سے فوج نکالنے کے ٹرمپ کے فیصلے پر احتجاج کرنا ہے-

یہ استعفا اسی وجہ سے دیا گیا ہے جس بنا پر جیمز میٹس نے اپنے عہدے سے استعفا دیا تھا- اس درمیان امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیئو کے نام داعش مخالف نام نہاد امریکی اتحاد میں صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے برٹ میک گورک کے استعفے نامے سے جو بات نقل کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ داعش کو ابھی شکست نہیں ہوئی ہے شام سے امریکی فوج کے قبل از وقت نکل جانے سے داعش کو اس بات کا موقع مل جائے گا کہ وہ خود کو پھر سے منظم کرلے-

علاقے کے سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کو گذشتہ برس ہی نکلنا تھا لیکن آل سعود حکومت نے شام میں تعینات امریکی فوج کے اخراجات کے لئے چار ارب ڈالر دے کر ان کے  انخلا کے عمل کو روک دیا تھا-

علاقے کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت اور آل سعود ٹرمپ کے اس فیصلے سے سب سے زیادہ ناراض ہیں- ان مبصرین کا کہنا ہے کہ شام کے مسائل میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ دھچکا اسرائیل کو لگا ہے کیونکہ شام کا بحران در اصل اسرائیل مخالفت استقامتی محاذ کو نابود اورصیہونی حکومت کو سیکورٹی فراہم کرنےکے لئے پیدا کیا تھا لیکن دہشت گردوں کی شکست اور شام سے امریکی فوج کے نکل جانے کے بعد یہ منصوبہ ناکام ہو گیا-