ایران کے بارے میں ٹرمپ کا بیان سادہ لوحی، چک شومر
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i343401-ایران_کے_بارے_میں_ٹرمپ_کا_بیان_سادہ_لوحی_چک_شومر
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اقلیتی دھڑے کے رہنما چک شومر نے ایران کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو ان کی سادہ لوحی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو تربیت دیئے جانے کی ضرورت ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۰۲, ۲۰۱۹ ۱۱:۰۴ Asia/Tehran
  • ایران کے بارے میں ٹرمپ کا بیان سادہ لوحی، چک شومر

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اقلیتی دھڑے کے رہنما چک شومر نے ایران کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو ان کی سادہ لوحی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو تربیت دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اقلیتی دھڑے کے رہنما چک شومر نے امریکی انٹیلی جینس ادارے کے سربراہ ڈین کوٹس، سی آئی اے سربراہ جینا ہسپل اور ایف بی آئی کے سربراہ کرسٹوفر ورائے کو مخاطب کر کے امریکی انٹیلی جینس کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹرمپ کو تمام حقائق و رپوٹوں سے آگاہ کئے جانے کے ساتھ ایران کے سلسلے میں اختیار کئے جانے والے رویے کے طریقہ کار کے بارے میں تربیت دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اقلیتی دھڑے کے رہنما چک شومر نے اپنے مراسلے میں تحریر کیا ہے کہ امریکہ کے انٹیلی جینس اداروں کو چاہئے کہ اس بات کی ہرگز اجازت نہ دیں کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے نادرست اور غیر سنجیدہ بیانات کا سلسلہ جاری رکھیں بلکہ انھیں انٹیلی جینس کے ابتدائی اصول و حقائق سے آگاہ کر کے کسی بھی سماج و معاشرے کے بارے میں معلومات تک رسائی سے متعلق تربیت دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

چک شومر نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے انٹیلی جینس اداروں کو ناقابل دفاع پوزیشن میں لا کھڑا کر دیا ہے اوراس طرح انھوں نے امریکہ کے قومی مفادات کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے اس لئے ایسا راستہ تلاش کئے جانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ٹرمپ کو یہ تمام باتیں سمجھائی جا سکیں۔

امریکہ کی سابق وزیرخارجہ میڈلین البرائٹ نے بھی امریکی انٹیلی جینس اداروں کے بارے میں امریکی صدرٹرمپ کے بیان پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کچھ سیکھنا ہی نہیں چاہتے اور یہ کہ ٹرمپ کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جینس ادارے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر رپورٹیں تیار کرتے ہیں اور ملک کے صدر کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ایسی رپورٹوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان پر بھرپور توجہ دیں۔

البرائٹ نے کہا کہ موجودہ دور میں پوری دنیا اور خود امریکہ کی صورت حال بہت پیچیدہ بنی ہوئی ہے اور امریکی کردار بالکل تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی انٹیلی جینس اداروں کی ایسی رپورٹوں کے بعد کہ جن میں کہا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے درپے نہیں ہے، امریکی صدر ٹرمپ نے اس قسم کی تمام رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکی انٹیلی جینس اداروں کے حکام کو نہایت سادہ لوح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انٹیلی جینس اہلکاروں کو ممکنہ طور پر اسکول بھیجے جانے کی ضرورت ہے۔