ایران کے بارے میں ٹرمپ کی تضاد بیانی ، صیہونی لابی پریشان
ایران کے بارے میں امریکی صدر کے متضاد بیانات سے امریکا میں ایک صیہونی لابی کے سربراہ کو شدید حیرت اور تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
امریکا میں ایک صیہونی لابی ڈیفنس آف ڈیموکریسی کے سربراہ مارک دیبوویٹز نے کہا ہے کہ میں حیران ہوں کہ امریکی صدر ٹرمپ کیوں ایرانی حکام سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ایران اقتصادی اعتبار سے خوشحال رہے تو مجھے خوشی ہوگی جبکہ ایران ہمیشہ اسرائیل کے خلاف پالیسیاں بناتا ہے۔ صیہونی حکومت کے اس حامی نے کہا کہ کیا ٹرمپ نے امریکی وزیرخارجہ پمپیؤ کی بارہ شرطوں میں سے ایک بھی شرط ایٹمی معاملے کے تعلق سے ایران کوپیش کی ہے؟ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے دورہ جاپان میں متضاد بیانات اور موقف کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا بلکہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔ ٹرمپ نے اپنے متضاد بیانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہ جن میں انہوں نے ایرانیوں کو دہشت گرد قراردیا تھا کہا کہ میں ایرانیوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور ایرانی قوم ایک عظیم قوم ہے۔