ایران کے خلاف امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان کا مخاصمانہ بیان
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں واشنگٹن کی وعدہ خلافیوں اور غیر قانونی اقدامات کا ذکرکئے بغیر دعوی کیا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبردی ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے ایران کے خلاف ظالمانہ اورغیر قانونی پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی واشنگٹن کی شکست خوردہ پالیسی کو حق بجانب قراردینے کی کوشش کرتے ہوئےکہا کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ اس لئے ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آئے کیونکہ ہمارے صدر اس سے بہتر ایک سمجھوتہ چاہتے ہیں اورہم سفارتکاری سے استفادے کے حق میں ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ہم بات چیت اور مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن ایران کے خلاف پابندیاں جاری رہیں گی تا کہ وہ مذاکرات کی میزپر لوٹ آئے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کامیاب رہی ہے اور میرے خیال میں یورپ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران اپنا رویہ تبدیل کردے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ برس آٹھ مئی کو ایٹمی معاہدے سے خودسرانہ اور غیر قانونی طریقے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ عائد کردی تھیں۔