Jan ۱۰, ۲۰۲۰ ۱۷:۵۹ Asia/Tehran
  • سلامتی کونسل کی جانب کثیرالفریقی روابط کے فروغ پر کا عزم

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک بیان کی منظوری دی ہے جس میں عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے منشور کی پاسدارای اور کثیر الفریقی روابط پر تاکید کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ کونسل خود کو عالمی ادارے کے منشور پر عملدرآمد کا پابند سمجھتی ہے اور عالمی امن و سلامتی کو درپیش خطرات کے مقابلے میں تمام ملکوں کے درمیان تعاون پر زور دیتی ہے۔ 
سلامتی کونسل کے بیان میں آیا ہے کہ سلامتی کونسل کثیرالفریقی روابط نیز عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کے لیے پابند عہد ہے جو جنگوں کی روک تھام کے حوالے سے حیاتی اہمیت رکھتا ہے۔ 
سلامتی کونسل نے اسی طرح وسیع البنیاد ڈائیلاگ نیز مختلف قوموں کے اچھے تجربات کے تبادلے اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنے فرائض کی ادائیگی پر وزر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان میں عالمی امن و سلامتی کے قیام میں علاقائی تنظیموں کے کردار اور ان کے درمیان تعاون کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس جمعرات کے روز سلامتی کونسل کے موجود صدر کی حیثیت سے ویتنام کی درخواست پر عالمی امن و سلامتی کے لیے تعاون کے عنوان سے بلایا گیا تھا۔ 
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترس نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور کی اہمیت پر زور دیا اور تمام رکن ملکوں سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی کی روک تھام کے لیے، عالمی امن و سلامتی کے بنیادی اصول کی حثیت سے اس منشور کی پاسداری کریں۔ 
امریکہ کی جانب سے ایران کے وزیر ڈاکٹر محمد جواد ظریف کو ویزہ دینے سے انکار کے باعث اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے ایرانی وزیر خارجہ کی تقریر کا متن سلامتی کونسل کے اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔ 
ایران کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے نام اپنے تحریری بیان میں عالمی قوانین اور ضابطوں پر امریکہ کی تخریب ساز اور خودسرانہ پالیسیوں کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی۔ بیان میں داعش جیسے دہشت گرد گروہوں خلاف جنگ کے عظیم ہیرو جنرل قاسم سلیمانی کے بزدلانہ قتل کو امریکہ کے اس قسم کے اقدامات کی محض ایک مثال قرار دیا ہے۔ 
ایرا ن کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امریکہ میں نئی اور اقوام متحدہ کے منشور کے مخالف حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ایران اور دنیا کے دیگر ملکوں کے عوام کے خلاف دھمکیوں اور حملوں میں شدید اضافہ ہوا اور حتی یہ حکومت داعش کے جنگی جرائم کو اپنے لیے مثال بناتے ہوئے ایران کے ہزاروں سال پرانے تہذیبی ورثے کو مٹانے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے جامع ایٹمی معاہدے جیسے اہم بین الاقوامی معاہدوں سے امریکہ کی علیحدگی نیز سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس پر عملدرآمد کرنے والوں ملکوں کو واشنگٹن کی جانب سے دھمکانے کی کوششوں کی جانب شارہ کرتے ہوئے، امریکہ کے ان اقدامات کو سلامتی کونسل کی کھلی توہین قرار دیا ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 
ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے تحریری بیان میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ دنیا میں کثیر الفریقی روابط کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ خود سرانہ اقدامات انجام دینے والوں کی مکمل حوصلہ شکنی کی جائے۔ 
وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کے مطابق دنیا میں کثیرالفریقی روابط کی تقویت کے لیے دنیا بھرکے ملکوں کی جانب سے ٹھوس سیاسی عزم نیز اقوام متحدہ کے منشور میں درج اقدار، اصولوں اور کثیرالفریقی روابط پر مشتمل نئی دستاویز تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ 
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اس دستاویز میں اقوام متحدہ کے منشور پر علمدرآمد کا دوبارہ عہد کرنے، دیگر ملکوں کے داخلی معاملات اور خارجہ تعلقات میں مداخلت سے گریز نیز طاقت کے استعمال کی ممانعت سے جیسے معاملات شامل ہونا چاہیں۔