یورپی ٹرائیکا کا اعلامیہ، امریکہ کی جانبداری ہے : روسی سینیٹر
Jan ۱۳, ۲۰۲۰ ۱۶:۳۷ Asia/Tehran
روسی سینیٹر نے ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں یورپی ٹرائیکا کے سربراہی بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک طرح سے امریکی اقدامات کی جانبداری قرار دیا ہے۔
روسی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ کونسٹنٹن کاساچوف نے کہا ہے کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے سربراہوں کے سہ فریقی اعلامیے سے ایٹمی سمجھوتے کی حمایت تو ہوتی ہے تاہم اس میں صرف ایران سے معاہدے کی پابندی کا مطالبہ کیاگیا ہے اور امریکہ سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔
اس روسی سینیٹر نے مزید کہا کہ ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر نکل جانے سے اس بین الاقوامی سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کاساچوف نے ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں امریکی وعدہ خلافیوں کو نظرانداز کئے جانے پر تنقید کی ہے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل، فرانس کے صدر امانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اتوار کی شب ایک مشترکہ اعلامیے میں ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے غیرقانونی طور پر باہر نکل جانے کی طرف کوئی اشارہ کئے بغیر ایران سے ایٹمی سمجھوتے کی مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے سربراہوں نے اس اعلامیے میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سمیت مغربی ایشا میں امریکہ کے دہشتگردانہ اور کشیدگی پیدا کرنے والے اقدامات کی جانب کوئی اشارہ کئے بغیر ایران سے بقول ان کے علاقے میں تشدد کو ھوا نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔