Aug ۱۳, ۲۰۱۵ ۲۰:۰۶ Asia/Tehran
  • عراق میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ کی دھمکی

عراق میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ وہ عدالت کا درواز کھٹکھٹائیں گے۔

لندن سے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار تین میں عراق پر قبضے کے بعد مارے جانے والے برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر جنگ عراق کے بارے میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ جلد منظر عام پر نہیں آئی تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ انتیس برطانوی خاندانوں کے وکلاء نے تحقیقاتی کمیٹی کو مزید دوہفتے کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی تاریخ معین کرے ورنہ وہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ عراق میں مارے جانے والے برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ کے وکیل میتھیو جیوری نے کہا ہے کہ فوجیوں کے اہل خانہ عمر بھر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے منتظر نہیں رہ سکتے اور اگر تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ جان چیلکاٹ نے عراق کی جنگ کے بارے میں اپنی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے بارے میں کوئی ٹائم فریم معین نہیں کیا تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براؤن نے دو ہزار نو میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ پہلے یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ کمیٹی ایک برس کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کر لے گی۔ اس رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کرنا ہو گی کہ سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے جن کا تعلق لیبر پارٹی سے تھا عراق میں امریکا کی جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ کیوں کیا تھا جس میں ایک سو اناسی برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔