دشمن کے اثر و رسوخ کے بارے میں رہبرانقلاب اسلامی کی تاکید
Mar ۱۱, ۲۰۱۶ ۱۶:۰۷ Asia/Tehran
مغربی حکومتوں نے ایران سے دشمنی کو اپنی اساس و بنیاد قرار دے رکھا ہے اور اس وقت بھی اثر ورسوخ بڑھانے کے درپے ہیں
رہبر انقلاب اسلامی نے چوتھی مجلس خبرگان کے سربراہ اور اراکین سے ملاقات میں ملک کی ترجیحات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دشمن کے اثر و رسوخ کو نہایت اہم اور سنجیدہ مسئلہ قرار دیا ہےرہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس بات پر تاکید کی کہ حقیقی ترقی و پیشرفت کے لئے اقتصادی ، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں ملک کی اندرونی ساخت کو مضبوط رکھنا ، انقلابی خصوصیات کی پاسداری ، جہادی تحریک کا تسلسل اور اسلامی و قومی عزت و شناخت کی حفاظت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے یہ بات زور دے کر فرمائی کہ دشمن کی طرف سے ایران کے حکام میں اثر و رسوخ پیدا کرنے کی منصوبہ بندی ملک کے حکام کے اندازوں کو غلط ثابت کرنا اور ان کی سوچ و فکر کو دشمن کے ہاتھ میں دینا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران کے حوالے سے امریکہ کی دشمنانہ پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ امریکہ کا یہ دعوی تھا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ایک بڑا خطرہ ہے ، اس کے باوجود کہ امریکی حکام منجملہ سابق نائب وزیر خارجہ ونڈی شرمن نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپے نہیں رہا اس کے باوجود امریکی حکام نے جھوٹ اور سازشوں سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ امریکہ ایٹمی معاہدے کے بعد بھی ایران کے خلاف مختلف حیلے بہانے تراش رہا ہے ۔
البتہ یہ دشمنیاں ماضی میں بھی موجود تھیں اس کے چند نمونے ایران، عراق جنگ ، اقتصادی ناکہ بندی ، ایرانی عوام کو انقلاب کے اہداف کے بارے میں مایوس کرنا اور انہیں انتخابات میں شرکت سے روکنا ہیں۔ امریکہ کی اصل اسٹریٹیجی ایران کے اسلامی انقلاب کی بنیادوں اور اساس کو کمزور بنانا ہے تاکہ دوسرےممالک کو بتایا جاسکے کہ امریکی اہداف کی بنیاد پر ایران کو جھکایا جاسکتا ہے اور ان کو اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے بارے میں مغرب کی دشمنیوں کو ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں مغرب سے تعلقات کو منقطع کرنے کا حامی نہیں ہوں لیکن ہمیں جاننا چاہیئے کہ ہم کن افراد سے بات چیت اور معاملہ کررہے ہیں ؟ مغربی حکومتوں نے ایران سے دشمنی کو اپنی اساس و بنیاد قرار دے رکھا ہے اور اس وقت بھی اثر ورسوخ بڑھانے کے درپے ہیں ۔
امریکی حکام نے گذشتہ تین عشروں میں ایران پر دہشتگردی کی حمایت اور انسانی حقوق کے پامالی کا الزام لگاکر نیز ایران کے ایٹمی پروگرام اور میزائل سسٹم پر خود ساختہ تشویشوں کا اظہار کرکے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور مسلسل ایران پر دباؤ بڑھایا ہے۔اقتصادی حوالے سے بھی یہ کہنا چاہیئے کہ ایٹمی سمجھوتے کے بعد نئی صورتحال سامنے آئی ہے اور مختلف ممالک سے وفود کی آمد و رفت میں اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی تک مطلوبہ اہداف و مقاصد تک پہنچنے میں کافی فاصلہ ہے جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے اشارہ فرمایا ہے کہ یورپی وفود کی آمد ورفت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی تک اس کے مثبت اثرات سامنے نہيں آئے ہیں ، عملی میدان میں یہ واضح ہونا چاہیئے کہ اس آمد و رفت کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہيں ، دوسری طرف صرف کاغذ کے پرزوں پر کئے گئے سمجھوتوں کا کوئی فائدہ نہيں ہوگا۔
امریکہ کے ناقابل بھروسہ ہونے کی بنیاد پر اس بات کا قوی امکان ہے کہ مغرب مختلف حیلوں بہانوں سے ماضی کے دباؤ اور سازشوں کو ایک بار پھر دہرائے ۔امریکہ کے اپنے وعدوں اور معاہدوں کے حوالے سے ناقابل اعتماد ہونے نیز اس کی دیرینہ پالیسیوں کی بناء پر امریکی عمل و کردار سے ہوشیار اور حساس رہنے کی ضرورت ہے ۔یہ موضوع خارجہ پالیسیوں بالخصوص ایٹمی معاہدے کے بعد خصوصی اہمیت کا حامل ہوگیا ہے ۔
رہبر انقلاب اسلامی کا مجلس خبرگان یا ماہرین کی کونسل کے سربراہ اور اراکین سے خطاب اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ امریکہ کی خطرناک اسٹریٹیجی اور دشمن کے اثر و رسوخ کو روکنےکا واحد راستہ اسلامی نظام کے مفاد کے دائرے میں اتحاد و وحدت اور انقلاب کے دشمنوں کی ماہیت کی صحیح شناخت میں مضمر ہے۔