سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے کمانڈر نے شام میں دہشت گردوں کے ہیڈکوارٹر پر میزائل حملے کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ سپاہ کے یہ میزائل، شام کے علاقے دیرالزور میں ٹھیک اپنے نشانے پر لگے ہیں۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیر جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا ہے کہ ایران سے داغے جانے والے چھے میزائل، عراق کی فضا سے گذر کر شام میں ٹھیک اپنے نشانے پر لگے ہیں اور دمشق کے اطراف میں پرواز کرنے والے ڈرون طیاروں نے ان میزائلوں کے اپنے نشانے پر لگنے کی تصاویر بھیجی ہیں۔
انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ تہران، لندن یا پیرس نہیں ہے۔ ہم نے یہ ایک چھوٹی سی کارروائی کی ہے اور اگر دہشت گردوں نے کوئی خطا یا غلطی کی تو اس سے بھی کہیں زیادہ نقصان پہنچانے والا اقدام عمل میں لایا جائے گا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے رابطہ دفتر کے سربراہ بریگیڈیر جنرل رمضان شریف نے بھی پیر کے روز ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا یہ میزائل حملہ دشمنوں اور دہشت گردوں کے خلاف ایران کی ایک چھوٹی سی تادیبی کارروائی تھی اور علاقائی و عالمی سطح پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو ایک انتباہ ہے اور انھیں چاہئے کہ ایران کے اس پیغام کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں
انھوں نے کہا کہ داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف یہ میزائل حملہ بہت کامیاب رہا ہے اور مغربی ایران کے دو صوبوں یعنی کردستان اور کرمانشاہ سے کہ جہاں بیشتر آبادی اہلسنت مسلمانوں پر مشتمل ہے، دہشت گردوں کے خلاف کیا جانے والا یہ اقدام، دہشت گردوں کے مقابلے میں تمام ایرانیوں کے اتحاد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علا الدین بروجردی نے کہا ہے کہ شام کے علاقے دیرالزور میں دہشت گردوں کے گڑھ پر ایران کی سپاہ کا یہ میزائل حملہ، ایران کے اقتدار اور دہشت گردی کے خلاف مہم کے نئے مرحلے کا مظہر ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی صفوں میں تباہی مچانے دینے والا ایران کا یہ اقدام، علاقائی و عالمی سطح پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو ایک انتباہ ہے اور انھیں چاہئے کہ ایران کے اس پیغام کو سمجھیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علا الدین بروجردی نے کہا کہ دہشت گردوں کو ایران بھیجنے والی، مختلف ملکوں کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ انھیں اس قسم کے جواب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر وہ بعض نہیں آئیں تو ایران کی جانب سے اس سے بھی کہیں زیادہ سخت اور منہہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران کے اس میزائل حملے نے اسٹریٹیجک نفطہ نظر سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ملک کے کسی بھی علاقے سے سینکڑوں کلو میٹر دور دہشت گردوں کے اڈوں کو نشانہ بنانے کی مکمل توانائی رکھتا ہے۔

Jun ۱۹, ۲۰۱۷ ۱۱:۲۹ UTC
کمنٹس