Sep ۱۷, ۲۰۱۹ ۱۶:۰۲ Asia/Tehran
  • ایران ، روس اور ترکی کے صدور کا مشترکہ اعلامیہ

انقرہ میں آستانہ مذاکرات کے عمل کے ضامن ممالک کے صدور کے پانچویں مشترکہ اجلاس کے اختتامی بیان میں شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر تاکید کی گئی ہے۔

انقرہ میں منعقدہ اسلامی جمہوریہ ایران روس اور ترکی کے صدور کے پانچویں سہ فریقی اجلاس کا اختتامی اعلامیہ چودہ شقوں پر مشتمل ہے۔ اس اعلامیے پر ایران، روس اور ترکی کے صدور نے دستخط کئے ہیں اور اس میں شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر تاکید کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شام کی تعمیر نو اور اس ملک کے عوام کے لئے انسان دوستانہ امداد بڑھانے کے سلسلے میں مزید ذمہ داری نبھائیںایران ، روس اور ترکی کے صدور نے اس اعلامیے میں آئندہ سہ فریقی اجلاس تہران میں منعقد کئے جانے پر اتفاق کرتے ہوئے عرب جمہوریہ شام  کی ارضی سالمیت، اقتدار اعلی، وحدت اور خودمختاری کے تحفظ پر تاکید کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی، ترک کے صدر رجب طیب اردوغان اور روس کے صدر پوتین نے انقرہ اجلاس کے اعلامیے میں شام پر صیہونی حکومت کے حملوں کو اس ملک کی ارضی سالمیت اور اقتداراعلی کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا اور اسے علاقے میں کشیدگی بڑھنے کا عامل قرار دیا۔ ایران، روس اور ترکی کے صدور کے اختتامی اعلامیے میں تاکید کی گئی ہے کہ اس علاقے میں امن و ثبات شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شام کے تنازعہ کا کوئی فوجی راہ حل نہیں ہے اور اسے صرف شامی گروہوں کے سیاسی عمل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس چوّن کے تناظر میں اقوام متحدہ کے تعاون سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ آئین تیار کرنے والی کمیٹی کی کارکردگی پر اطمینان، شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی کوششوں کی حمایت ، تمام شامیوں کے لئے انسان دوستانہ امداد تک رسائی آسان بنانے، شامی پناہ گزینوں کی رضاکارانہ وطن واپسی کو محفوظ اور آسان بنانے، ان کے حق واپسی کی یقین دہانی اور ان کی مدد و حمایت، سہ فریقی انقرہ اجلاس کی دیگر شقیں تھیں۔ ایران، روس اور ترکی کے صدور نے پیر کو سہ فریقی انقرہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس مشترکہ پریس کانفرنس میں شام کے امور میں امریکہ کی مداخلت اور شام کی قانونی حکومت کی اجازت کے بغیر اس ملک میں موجودگی کے اہداف کو نہایت خطرناک قرار دیا اور اسے دہشتگردوں کی مدد سے تعبیر کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ، شام کو تقسیم کرنا چاہتا ہے اور یہ علاقے بالخصوص ایران، روس اور ترکی سمیت کسی بھی ملک کے لئے قابل قبول نہیں ہے اور امریکہ کی بدنیتی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ شام کی سرزمین کا ایک حصہ یعنی جولان کی پہاڑیوں کو اس نے ایک جارح کو بخش  دیا ہے۔  صدر حسن روحانی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ سبھی کو شام کی ارضی سالمیت کا احترام کرنا چاہئے تاکید کی کہ شام میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رکھنا چاہئے۔

کمنٹس