Dec ۰۴, ۲۰۱۹ ۱۳:۲۴ Asia/Tehran
  •  ایران خطے میں بیرونی فوجیوں کی موجودگی کا مخالف ہے

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران مغربی ایشیا کے علاقے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی کا مخالف ہے۔

 ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کی جڑیں امریکی پالیسیوں میں پیوست ہیں کہا کہ مغربی ایشیا کے علاقے میں بیرونی فوجیوں کی موجودگی اس علاقے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانے میں کوئی مدد نہیں کرے گی۔ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جو ٹوکیو کے دورے پر ہیں جاپان کے این ایچ کے ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران ، جاپان کے اس منصوبے کا مخالف ہے جس کے تحت وہ اپنے تجارتی جہازوں کی سیکورٹی کے بہانے اپنے فوجی مشرق وسطی بھیجنا چاہتا ہے ۔سید عباس عراقچی نے جاپان کے وزیر اعظم آبہ شینزو سے ملاقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کے وزیر اعظم کو مغربی ایشیا کے علاقے میں جاپانی فوجیوں کی روانگی کے تعلق سے  ایران کے موقف سے آگاہ کردیا گیا ہےایران کے نائب وزیر خارجہ نے ہرمز امن منصوبے کے بارے میں کہا کہ ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں امن و استحکام اور سیکورٹی کے تحفظ کے لئے ان تمام ممالک کو ہرمز امن منصوبے کی حمایت کی دعوت دیتا ہے جن پر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے حالات سے جڑے ہوئے ہیں  ۔سید عباس عراقچی نے منگل کو ٹوکیو میں جاپان کے وزیرخارجہ توشیمیتسو موتگی سے ملاقات میں بھی کہا کہ ایران نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں امن و سیکورٹی کی حفاظت کی غرض سے ان تمام ممالک کو ہرمز امن منصوبے کی حمایت کی دعوت دی ہے جن پر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے حالات اور تبدیلیوں کا اثر پڑتا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات میں جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتگی نے علاقے کے خاص حالات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ ٹوکیو کو مشرق وسطی کے علاقے کے حالات کے بارے میں تشویش ہے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنا چاہئے۔اس سے قبل ایران کے نائب وزیرخارجہ  سید عباس عراقچی نے جاپان کے وزیر اعظم  آبے شینزو سے ملاقات اور گفتگو کی تھی۔ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی ایران اور جاپان کے نائب وزرائے خارجہ کی سطح کی مشاورتی کمیٹی کے اٹھائیسویں اجلاس کے انعقاد اور پہلے عالمی ڈائیلاگ میں شرکت کے لئے پیر کو جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پہنچے۔

کمنٹس